Urdu book · میوات کا سفر

آٹھواں سفر

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

نوائے سفر گوڑ گاؤں کی شان دار جامع مسجد کے مقابل ایک دو منزلہ مکان کے سامنے ایک چھوٹا سا بورڈ لٹک رہا ہے جس پر لکھا ہوا ہے : چودھری طیب حسین خان (ایم، ایل، اے) ایڈوکیٹ ۔ یہ چودھری محمد یسین خان صاحب کے صاحب زادے ہیں جو میوات کے علاقہ میں قومی اصلاحی کام کے سلسلے میں ایک ممتاز نام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ۴ ستمبر ۱۹۶۹ء کی صبح کو مولانا عبد الرحیم کی معیت میں چودھری طیب حسین خاں سے میری پہلی ملاقات ہوئی اور تین گھنٹے تک جاری رہی۔ چودھری طیب حسین خاں ۱۹۳۶ء میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے نوج میں ہائی اسکول پاس کیا۔ اس کے بعد علی گڑھ اور پنجاب یونیورسٹی سے بی۔ اے اور ایل۔ ایل۔ بی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ انھوں نے جس خاندان میں آنکھ کھولی وہ شروع سے سماجی خدمت اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ چنانچہ طالب علمی ہی کے زمانہ سے سیاست میں حصہ لینے لگے۔ ۱۹۶۱ء میں جب انھوں نے تعلیم سے فراغت حاصل کی تو وہ اپنے گاؤں کے سرپنچ بن چکے تھے۔ ۱۹۶۳ء میں وہ نوج بلاک کے چیر مین تھے اور اسی سال پہلی بار فیروز پور جھیرکہ سے کانگریس کے ٹکٹ پر پنجاب کے الیکشن میں کھڑے ہوئے۔ چودھری طیب حسین خاں سے زیادہ تر میوات کے مسائل پر گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ میو قوم شعور کے اعتبار سے زمانہ سے بہت پیچھے ہے۔ مثلاً وہ نہیں جانتے کہ موجودہ زمانہ میں تعلیم کی کیا اہمیت ہے۔ اسی طرح وہ زراعت کے سوا کسی اور ذریعہ معاش کو نہیں جانتے۔ وہ ابھی تک اس واقعہ سے "بے خبر" ہیں کہ زمانے نے زراعتتی دور سے نکل کر صنعتی دور میں قدم رکھ دیا ہے۔ آج بھی وہ یہی سمجھتے ہیں کہ معاش کا سب سے بڑا اور اصلی ذریعہ زمین ہے۔ میں نے کہا کہ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ میو قوم کا سب سے بڑا حصہ مفلس ہے۔ کیوں کہ زمینی پیداوار کے علاوہ بے شمار چیزیں جن کو انھیں بازار سے خرید نا ہوتا ہے، ان کا سارا کاروبار و بار دوسروں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page