Urdu book · میوات کا سفر

آٹھواں سفر

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

کے قبضہ میں ہے اور اس طرح ان کی زمینی پیداوار کی کمائی بازار کی خریداری کے راستے دوسرے کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے۔ طیب حسین خاں صاحب کے والد چودھری یسین خاں صاحب بھی اس وقت گفتگو میں موجود تھے۔ انھوں نے کہا اصل بات یہ ہے کہ دین کا کوئی کام ہو یا دنیا کا، دونوں کی گاڑی جس پہیہ سے چلتی ہے وہ پیسہ ہے۔“ چودھری طیب حسین خاں صاحب نے کہا کہ اصل مسئلہ یہی ہے۔ بیشتر میو خاندانوں کا یہ حال ہے کہ ان کے پاس پیسہ نہیں ہے جس سے وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکیں یا ان کو تجارت پر لگا سکیں ۔ ان کی زمین کا حال یہ ہے کہ اس کا سارا انحصار آسمانی بارش پر ہے۔ اگر بارش ہوگئی تو کام چل گیا اور بارش نہ ہوئی تو بیوکسان کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا کہ وہ مہاجن سے سودی قرض لے کر اپنی ضرورتیں پوری کرے۔ ان کا خیال ہے کہ میواتیوں کے مسئلہ کا حل یہ ہے کہ ان میں دست کاری کو رواج دیا جائے۔ درمیان ملاقات میں ایک اور صاحب آگئے۔ تعارف کے بعد معلوم ہوا کہ یہ ولی محمد صاحب ہیں، جو قصبہ نوج میں وکالت کرتے ہیں اور میو ہائی اسکول کے آنرری سکریٹری ہیں۔ ان سے بھی مفید باتیں رہیں۔ یہ ہفت روزہ الجمعیتہ بہت شوق سے پڑھتے ہیں اور اس کے قدر دانوں میں سے ہیں۔ اپنی روایتی شرافت اور سماجی خدمات کی وجہ سے چودھری طیب حسین خاں کے خاندان کا سیاسی ریکارڈ شاندار رہا ہے۔ ان کے والد چودھری یسین خاں ۱۹۵۲ء میں ریاستی اسمبلی کے انتخاب میں بلا مقابلہ کامیاب ہوئے۔ اس کے بعد ۱۹۵۷ء کے الیکشن میں وہ ۱۵ ہزار ووٹوں سے جیتے ۔ ۱۹۶۲ء کے الیکشن میں ان کے لڑکے چودھری طیب حسین خاں نے اپنے حریف کو دس ہزار ووٹوں سے ہرا کر کامیابی حاصل کی۔ ۱۹۶۲ء کے الیکشن میں کامیابی کے بعد چودھری طیب حسین خاں کیرڈوں منسٹری میں صحت اور پی ڈبلیو ڈی کے محکمہ کے وزیر ہوئے اس وقت چودھری صاحب کی عمر صرف ۲۷ سال تھی۔ اور وہ ملک کے سب سے کم عمر وزیر تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page