آٹھواں سفر
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
میوات کے علاقہ کے سفر کے دوران میں نے محسوس کیا کہ چودھری صاحب کے بارہ میں عام طور پر لوگوں کی اچھی رائے ہے۔ اس کی وجہ جیسا کہ لوگوں نے بتایا ، یہ ہے کہ چودھری صاحب نہ صرف یہ کہ شریف آدمی ہیں، بلکہ وہ مسلم دوست آدمی ہیں۔ معاملات میں کسی مصلحت کا خیال کئے بغیر ایک ’’ پٹھان‘‘ کی طرح حق کی حمایت کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنی مختصر دس ماہ وزارت کے دوران بہت سے سماجی کام کئے۔ مثلاً سوہنہ سے نوگاؤں تک سڑک چوڑی کرائی۔ کئی اسکول اور اسپتال بنوائے۔ وغیرہ۔ مگر یہ بھی عجیب قصہ ہے کہ پچھلے دو الیکشنوں میں انھیں شکست اٹھانا پڑی۔ ’’جب آپ کا بیک گراؤنڈ اتنا اچھا ہے تو پھر شکست کی وجہ کیا تھی‘‘ میں نے چودھری صاحب سے اپنی ملاقات میں دریافت کیا۔ ’’کچھ نہیں۔ بس چینج (تبدیلی ) کی خواہش۔ مجھ پر کسی قسم کی نا اہلی کا کوئی الزام نہیں مگر ہماری قوم کے لوگ یوں سوچتے ہیں ’’کیا ہمیشہ ایک ہی ایم ایل اے رہے گا‘‘ بس اس قسم کے خیالات ہیں جنھوں نے مجھے شکست دی۔ چودھری صاحب اگر چہ الیکشن ہار گئے ہیں مگر اب بھی اہل حاجت ضروریات کے لئے انھیں کے پاس آتے ہیں۔ میری تین گھنٹہ کی ملاقات کے دوران چودھری صاحب کو بار بار اٹھنا پڑا۔ کیوں کہ کبھی کہیں سے ٹرنک کال آ رہی ہے۔ کبھی کوئی ملنے کے لئے آیا ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چودھری صاحب کے متعلق لوگوں کا احساس ہے کہ وہ ملت کا درد رکھتے ہیں۔ ان کے اندر جذبہ ہے کہ لوگوں کے مسائل حل کریں۔ اسی کے ساتھ اثر و رسوخ کے اعتبار سے بھی میوات کے مسلمانوں میں وہ نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ میوات میں ایک مثل مشہور ہے ۔ ’’میٹو مرا جب جانیو جب تیجا ہو جائے‘‘ یہ میٹو قوم کی صحیح تصویر ہے۔ میٹو ایک بے حد بہادر اور جفا کش قوم ہے۔ بڑی سے بڑی مار اور بڑے سے بڑے مصائب کو سہہ کر نکل آتا ہے۔ اگر اس قوم کی قوتوں کو استعمال کیا جاسکے تو اس سے اسی طرح کی ایک جاندار قوم ابھر سکتی ہے جیسے کہ جاپانی یا چینی یا جرمن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader