آٹھواں سفر
Urdu book, p. 134
By Maulana Wahiduddin Khan
قوم ۔ اس علاقہ میں سڑک اور بجلی کے پھیلاؤ نے نئے نئے کام پیدا کر دیئے ہیں۔ جن لوگوں کے پاس سرمایہ ہے وہ ٹیوب ویل اور ٹریکٹر اور دوسری مشینر لگا رہے ہیں۔ مگر اس ترقی نے بے سرمایہ لوگوں کے لئے بھی نئے نئے کام فراہم کر دیئے ہیں۔ خاص طور پر مشینوں کے پھیلاؤ نے میکینک کی ضرورت بہت بڑھا دی ہے، اس علاقہ کے نوجوان ٹیکنیکل ٹریننگ حاصل کریں تو وہ علاقہ میں بہترین معاش کے مواقع پاسکتے ہیں۔ کھدری جمال پور سے زکوپور جاتے ہوئے میں نے دیکھا کہ سڑک کے دونوں طرف مختلف کھیتوں میں ایک خاص طرح کے پودے اگے ہوئے ہیں۔ معلوم ہو کہ یہ ڈھینچا کہا جاتا ہے۔ شروع بارش میں جولائی کے زمانہ میں اسے ہوتے ہیں۔ وہ تیزی سے بڑھتا ہے اور چند مہینے میں قد آدم برابر ہو جاتا ہے۔ دسمبر میں اسے کاٹ لیتے ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ اس کا خاص فائدہ یہ ہے کہ وہ بے کار اور نکمی زمین کو زرخیز بناتا ہے اور کھیت کو طاقت ور کر دیتا ہے۔ اس کے درخت کے کئی استعمال ہیں۔ لیکن اگر اس پر ہل چلا کر کھیتوں میں اسے چھوڑ دیا جائے تو کھیت کی زرخیزی میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم اس کی کاشت مجھے صرف میوات میں نظر آئی۔ دہلی میں ایک بزرگ ” پیر برنا “ کے نام سے مشہور ہیں۔ یہاں صدر بازار کے علاقہ میں ایک گلی برنا ہے، اس گلی میں ، پچھلے تقریباً ۲۰ سال سے مقیم رہنے کی وجہ سے ان کا یہ نام چل پڑا ہے۔ یہ مولانا رحمت اللہ صاحب بھرت پوری ہیں۔ جو اپنے مخصوص اوصاف کی بنا پر ہر فرقہ کے لوگوں کا مرجع بنے ہوئے ہیں۔ اگر آپ صبح کے وقت برنا گلی میں جائیں تو حاجت مندوں کا جوق در جوق ہجوم اس چھوٹی سی مسجد کا طواف کرتا نظر آئے گا جس کے ایک حجرہ میں مولانا رحمت اللہ صاحب مقیم ہیں۔ اس ہجوم میں اکثریت غیر مسلموں کی ہوتی ہے۔ مولانا رحمت اللہ صاحب میواتی ہیں۔ ہفت روزہ الجمعیتہ میں میوات کے سفر کی جورودادیں شائع ہو رہی ہیں اس کے خصوصیت سے قدر داں ہیں۔ ایک ملاقات میں انھوں نے کہا : ” ضرورت ہے کہ میوات کے ہر چوراہہ اور ہر بس اڈہ پر لاؤڈ اسپیکر لگا دیا جائے اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader