Urdu book · میوات کا سفر

آٹھواں سفر

Urdu book, p. 135

By Maulana Wahiduddin Khan

اِن مضامین کو پڑھ کر سنایا جائے‘۔ انھوں نے کہا کہ اگر یوں اخبار میں دیا جائے تو وہ لوگ کم ہی مطالعہ کی طرف مائل ہوں گے‘ اخبار والے تو لکھتے ہی رہتے ہیں، یہ کہیں گے اور اخبار ایک طرف ڈال دیں گے۔ لیکن اگر ان قیمتی باتوں کو لاؤڈ اسپیکر کی آواز بنا دیا جائے تو ہر سننے والا متوجہ ہوگا۔ انھوں نے میواتی زبان میں کہا، اس کوشش کو یوں کہیں گے : ” دیکھو! ریڈیو بول رہا ہے میوات کے لئے اسی قوم پھر بھی بیدار نہ ہوئے“ مولا نار حمت اللہ صاحب کی زبان سے یہ الفاظ سن کر میرا ذہن اس طرف منتقل ہوا کہ انھوں نے سادگی کے ساتھ ایک ایسی بات کہہ دی جس کے اندر بہت بڑی تسلیمی تدبیر چھپی ہوئی ہے۔ موجودہ زمانہ میں یہ طریقہ عام ہے کہ بڑے بڑے کاروباری لوگ اپنی باتوں کو ریکارڈ میں بھر دیتے ہیں اور پھر اس کو مختلف طریقوں سے بجا کر عوام کے کانوں تک پہنچاتے ہیں۔ یہی طریقہ کسی قوم کو بیدار کرنے کے لئے اختیار کیا جاسکتا ہے ۔ مؤثر انداز میں پیغام عمل دینے والے مضامین ریکارڈ کرا لئے جائیں اور پھر دکانوں چوراہوں، اسٹیشنوں اور دوسرے اجتماعی مقامات پر ان کو بجا کر سنایا جائے۔ اخبار یا کتاب میں چھپے ہوئے الفاظ کے مقابلے میں انسانی آواز کو لاؤڈ اسپیکر کی آواز بنا دیا جائے تو اس کی تاثیر کئی گن بڑھ جاتی ہے۔ ریڈیو یا ٹی ہردوں کا یہ فائدہ آج کاروباری اور سیاسی اغراض کے لئے کثرت سے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ کاش ہم ملت کے احیاء کے لئے بھی اسے استعمال کر سکیں۔ ۱۰ دسمبر کی صبح کو ایک صاحب مجھ سے ملنے کے لئے آئے ” آپ میوات سے تشریف لائے ہیں“ ان کے ساتھی نے کہا جو نابینا ہونے کی وجہ سے ان کی رہنمائی کہہ رہا تھا۔ یہ مولانا عبد السلام صاحب (پیدائش ۱۹۳۵ء) گو با نہ ، ڈاک خانہ نگینہ (میوات) سے تھے۔ پیدائش سے نابینا ہیں۔ ان کا معمولی حلیہ، نیز بینائی سے محرومی کی بنا پر ابتدا ئڑ مجھے گمان ہوا کہ بس سیدھے سادے میواتی ہیں ۔ اور یہ تو وہ ہم د گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں گے ۔ مگر گفت گو کے دوران مسلسل محسوس ہو رہا تھا کہ ان کے جملے پڑھے لکھے انسان کے جملے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page