آٹھواں سفر
Urdu book, p. 136
By Maulana Wahiduddin Khan
میں کچھ دیر تک ان کو نظر انداز کرتا رہا، مگر بالآخر ان کی عمدہ علمی زبان اور ذہانت کی باتوں نے مجبور کیا کہ میں ان سے تفصیلی حالات معلوم کروں۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اگرچہ آپ بچپن سے نابینا ہیں۔ مگر اپنے شوق علم کی بنا پر پہلے قدر آن ناظرہ اور حفظ پڑھا۔ اس کے بعد شکراہ وہ کے دار العلوم میں عربی کی تعلیم شروع کی یہاں تک کہ باقاعدہ درس نظامیہ سے فراغت حاصل کی۔ ان کے ساتھی نے بتایا کہ آپ عربی رسائل اور عربی کتب پڑھوا کر سنتے ہیں اور اس درجہ عبور ہے کہ پڑھنے والا اگر اعراب کی غلطی کر جائے تو فوراً ٹوک دیتے ہیں۔ ”میں مسلکاً اہل حدیث ہوں “ انھوں نے دوران گفتگو میں کہا۔ ” لیکن اگر اسلامی مفاد کے لئے ان گروہ بندیوں کو توڑنا ہو تو میں پہلا شخص ہوں گا۔ میں اہل حدیث، حنفی، شافعی ، حنبلی وغیرہ لکھنا پسند نہیں کرتا۔ میں تو بس وہی سماکھر المسلمین کا قائل ہوں ۔ سید الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہمیں جو نام دیا تھا، اس سے بہتر کوئی نام نہیں۔“ ”ہماری ماؤں کی گودیں اچھی ہوں، اور پھر مدارس میں انھیں عمدہ نصاب اپنی تعلیم کے لئے حاصل ہو تو اس وقت ملت اسلامیہ کے گلشن میں بہار آسکتی ہے۔“ ایک گھنٹہ کی گفتگو میں وہ اس طرح کے جواہر ریزے بکھیرتے رہے اور میں خود بولنے سے زیادہ ان کی باتوں کو سنتا رہا۔ ان کا پیار بھرا انداز تخاطب، عمدہ علمی زبان، معاملات پر فکر انہ رائے زنی کو دیکھ کر خیال ہوا کہ کیسے کیسے موتی ہماری امت میں دبے ہوئے ہیں۔ مگر ان کو موقع نہیں ملا کہ اپنی شخصیت کا اظہار کر سکیں۔ امریکہ کی ہیلن کلر اور مصر کے طہ حسین نے نابینا ہونے کے باوجود بڑے بڑے کام کئے۔ اس کی وجہ صرف یہ نہیں کہ وہ فطرت سے اعلیٰ صلاحیت لے کر پیدا ہوئے تھے۔ بلکہ اس کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کو وہ حالات ملے جس میں وہ اپنی فطری استعداد اور شوق کو بروئے کار لاسکیں۔ مولانا عبد السلام اس وقت دار العلوم شکراہ وہ میں مدرس ہیں۔ قرآن کے علاوہ جلالین، ابن ماجہ ، مشکوٰۃ وغیرہ پڑھاتے رہے ہیں۔ عربی، فارسی، اردو، ہندی میں اچھی استعداد رکھتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader