Urdu book · میوات کا سفر

آٹھواں سفر

Urdu book, p. 137

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ کچھ دیر رہ کر واپس چلے گئے اور میں سوچتا رہا۔" کاش امت کے ان جواہر کے لئے وہ حالات فراہم ہو سکیں جن میں وہ اپنے شوق اور اپنی صلاحیت کو پوری طرح بروئے کار لاسکیں ۔ امت میں کتنے ایسے لوگ ہیں جو بظاہر نا قابل لحاظ معلوم ہوتے ہیں حالاں کہ وہ بڑے بڑے کام انجام دے سکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ امت ان کے لئے کام کے مواقع مہیا کر دے۔" جس وقت میں ارولی پہاڑ کی بلندی پر کھڑا ہو کر خواجہ موسیٰ کی درگاہ کا منظر دیکھ رہا تھا تو مجھ پر عجیب کیفیت طاری ہوئی۔ ایک طرف پہاڑ ، دوسری طرف وسیع پھیلا ہوا میدان جس میں کہیں کہیں کیکر کے درخت اور فصلیں کھڑی ہوئی نظر آ رہی تھیں۔ کہیں کہیں بجلی کے کھمبوں پر دوڑتے ہوئے تار اس قدیم سرزمین کو جدید بنانے کی جدوجہد میں مصروف دکھائی دیتے تھے۔ اس ماحول میں درگاہ کی عظیم خاموش کھڑی ہوئی عمارت کو میں اس طرح دیکھ رہا تھا گویا ہندوستان میں اسلام کی تمثیل کو دیکھ رہا ہوں۔ اگر کیمرہ ہوتا تو میں اس منظر کی تصویر لے لیتا۔ بے اختیار میری زبان سے نکلا" اور اپنی رو داد سفر کو اس تصویر کے ساتھ اخبار میں شائع کرتا۔" مگر ہماری اردو صحافت کے پاس نہ ایسے اخبار ہیں نہ ایسے صحافی۔ صحافت موجودہ زمانہ میں ذہنی بیداری کا بہترین ذریعہ ہے۔ ایک ہفت روزہ جو ملی خوراک سے بھرا ہو، ہر ساتو میں روز قوم کے تمام افراد تک پہنچے اور ان کو ذہنی غذا دینے اور ان کے جذبات کو جنھجورنے کا کام کرے تو چند برسوں میں انشاء اللہ زبردست نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ مگر اس کام کے لئے ایسے اخبار کی ضرورت ہے جس کی اشاعت لاکھوں میں ہو، اسی وقت وہ کروڑوں کے درمیان پہنچ سکتا ہے۔ وہ آفست میں چھپتا ہو تاکہ جدید معیار کی چھپائی نیز تصویروں اور نقشوں کے ساتھ اسے زیادہ سے زیادہ مزین کیا جاسکے۔ اس کے ایڈیٹر کو ہر قسم کے جدید ترین ذرائع حاصل ہوں۔ وہ ہر جگہ فوری طور پر پہنچ سکے ۔ دنیا بھر کی معلومات اپنی میز پر جمع کرنے کی پوزیشن میں ہو۔ مواد کی ترتیب اور فراہمی میں وہ جدید آلات وسائل سے پوری طرح مدد لے سکتا ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page