Urdu book · میوات کا سفر

آٹھواں سفر

Urdu book, p. 138

By Maulana Wahiduddin Khan

اس قسم کی ملی صحافت وجود میں لانے کے لئے اقتصادی وسائل کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ ہماری قوم آج بھی اس پوزیشن میں ہے کہ وہ اس قسم کے اقتصادی وسائل فراہم کر سکتی ہے۔ مگر ہمارے پاس اپنے اقتصادی وسائل کا مصرف شادیوں کی دھوم ہے یا جذباتی اور ہنگامی تماشے، کسی ٹھوس تعمیری کام کے لئے قوم سے اس کی امید نہیں کی جاسکتی۔ ایک عظیم امکان کے عین درمیان کھڑے ہوئے ہم اس امکان کو حاصل کرنے سے محروم ہیں۔ میوات کے سفر میں پونہ نا ناسے بڑیڈ جاتے ہوئے میں نے ایک کنواں دیکھا اس کی تعمیرات بول رہی ہیں کہ منصوبہ کے اعتبار سے یہ غیر معمولی طور پر ایک بہت بڑا کنواں تھا، مگر آج وہ بے کار ہے، کیوں کہ اس کا بھاری بھر کم گولا لگاتے وقت ٹیڑھا ہو گیا تھا۔ اب وہ ایک عظیم ٹیڑھے مینار کی طرح زمین کی گہرائیوں میں اٹکا پڑا ہوا ہے۔ کنویں کے معاملات کے کسی ماہر سے آپ پوچھیں تو وہ بتائے گا کہ کنویں کا گولا جب زمین میں دھنسایا جاتا ہے تو یہ ایک بہت نازک کام ہوتا ہے اور اکثر معمولی واقعات اس کو ٹیڑھا کر دینے کے لئے کافی ہوتے ہیں جب کہ ایک بڑے کنویں کا پتھر کا گولا ایک لاکھ من تک کا ہو سکتا ہے۔ جب گولے پر دباؤ ڈال کر نیچے دھنساتے ہیں تو اس کو اندر کی جانب سیدھا سفر کرنے کے لئے نیچے چاروں طرف یکساں حالات ضروری ہیں اگر گولے کے نیچے ایک طرف معمولی مٹی ہو اور دوسری طرف ایک پونڈ کا ایک کنکر آ جائے تو یہ چھوٹا سا کنکر پورے ایک لاکھ من وزن کے گولے کو ٹیڑھا کر دے گا۔ اگر آپ دیکھیں تو یہی بات قوموں کی تاریخ میں بھی نظر آئے گی۔ ماضی میں اور آج بھی ایسی مثالیں ہیں کہ ایک چھوٹا گر وہ اپنے سے بڑے گروہ پر اثر انداز ہونے اور بالا دستی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔ البتہ اس غیر معمولی نتیجہ کو حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ حکمت و دانش مندی سے اپنے آپ کو اس موافق مقام پر لے جائیں جہاں قدرت نے چھوٹے سے کنکر کو پہنچایا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page