Urdu book · میوات کا سفر

دسواں سفر

Urdu book, p. 139

By Maulana Wahiduddin Khan

دسویں سفر یہ میوات کے لئے میرا دسویں سفر تھا۔ ۲۴ ستمبر ۱۹۷۹ء کی صبح کو دہلی سے جانا ہوا اور ۲۷ ستمبر کی صبح کو واپسی ہوئی۔ میوات شمالی ہند کے اس خطہ میں واقع ہے جہاں امسال سیلاب نے زبر دست نقصانات پہنچائے ہیں۔ میرا سفر میوات کے ہریانہ کے حصہ میں تھا۔ میں جن مقامات سے گزرا اور جہاں جہاں ٹھہرنے کا اتفاق ہوا، ان کے نام حسب ذیل ہیں : گوڑ گاؤں ، نوج ، سوہنہ ، برکلی ، نگینہ ، پنگواں ، فیروز پور جھیرکہ ۔ بلونڈا ، بیواں ، بڑبیڈ ، پونا ہانہ ، شاہ چوکها ۔ میں نے دیکھا کہ اب بھی اس بد قسمت علاقہ میں پانی بھرا ہوا ہے۔ نہ صرف کھیتوں میں بلکہ آبادیوں میں بھی پانی گھسا ہوا تھا۔ " آزادی کے چو بیویں سال میں بھی ہم اس مصیبت سے نجات نہ پاسکے ۔" میں نے سوچا " جب کہ ہماری قومی حکومت نے سیلاب کنٹرول کے نام سے ایک بہت بڑا محکمہ قائم کر رکھا ہے۔ اور اس پر غریب عوام کے ٹیکسوں کے اربوں روپئے خرچ ہوتے ہیں ۔" اور جلد ہی مجھے اس کا جواب مل گیا۔ ہماری گاڑی دوڑی ۔ جے پور روڈ پر تیزی سے پھسل رہی تھی ۔ سامنے حد نظر تک آسمان کو چھوتی ہوئی پہاڑیاں کھڑی تھیں۔ اس کے دامن میں ہر طرف ہر یالے درخت اور درختوں کے جھنڈ میں کہیں کہیں ابھری ہوئی بستیاں۔ ان مناظر کے درمیان پانی کی پھیلی ہوئی سفید چادر اس کے حسن میں اضافہ کر رہی تھی۔ سیلاب ایک قدرتی عذاب ہے مگر یہ عذاب اس کے لئے ہے جو اس سے دوچار ہو۔ جو شخص اس کا دور سے مشاہدہ کرے ، اس کے لئے وہ ایک حسین منظر ہے۔ الا یہ کہ اس کے پہلو میں وہ دردمند دل ہو جو دوسروں کے غم کو اپنا غم بنا لیتا ہے۔ بس یہی میرے سوال کا جواب تھا ، وہ لوگ جو سیلاب کنٹرول کرنے کے محکمہ کے مالک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page