Urdu book · میوات کا سفر

پہلا سفر

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

ہند کی تمثیل دیکھ رہاہوں جو قیادت و سرپرستی سے محروم ہو کر ایک قسم کی یتیمی کی حالت میں اس جغرافیہ کے اندر پڑی ہوئی ہے ۔ مجھے بتایا گیا کہ یہاں کثرت سے سانپ اور بچھو پائے جاتے ہیں ۔ نونو ہاتھ کے کالے ناگ مارے گئے ہیں مگر کاٹنے کا کوئی واقعہ پچھلے دس برس میں کبھی نہیں ہوا۔ حالانکہ عالم یہ ہے کہ طالب علم نے چابی نکالنے کی لیے جیب میں ہاتھ ڈالاتو ہاتھ میں چھٹانک بھر کا بچھو آگیا۔ بستر اور تہ بند میں سانپ لپٹے ہوئے پائے گئے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ بزرگوں کی کرامتوں کا اثر ہے۔ یہ بھی بزرگی کا عجیب و غریب تصور ہے کہ ہم مستقبل میں پیدا ہونے والے انسانی سانپوں اور بچھوؤں سے بچنے کی تدابیر کا اہتمام تو نہ کر سکے البتہ ایسے بزرگوں کے تصرفات پر فخر کر رہے ہیں جنہوں نے دائمی طور پر ہماری نسلوں کو جنگلی سانپوں اور بچھوؤں کے زہر سے محفوظ کر دیا ہے ۔ درگاہ خواجہ موسیٰ جس پہاڑی کے دامن میں واقع ہے اس کی چوٹی پر ایک ٹوٹا پھوٹا کھنڈر دکھائی دیتا ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ کسی قدیم راجہ کا قلعہ تھا جو اس علاقہ میں راجہ کی حویلی کے نام سے مشہور ہے۔ ہم اس کو دیکھنے کے لیے اوپر چڑھے ۔ یہ پہاڑی قلعہ سات آٹھ منزلہ ہے اس کا طرز تعمیر یہ ہے کہ نیچے سے اوپر تک ہر منزل سیڑھیوں کی شکل میں ہے ۔ ( ملاحظہ ہو تصویر ذیل ) اس طرح سطح زمین سے لے کر پہاڑی کی چوٹی تک ایک کے بعد ایک منزلیں تعمیر ہوتی چلی گئی ہیں ۔ ہم اس قلعہ کے اوپر اس کی آخری منزل پر کھڑے ہوئے تو نیچے دہ بستی دکھائی دے رہی تھی جو پلّہ کے نام سے مشہور ہے ۔ یہ ہریانہ کے ضلع گوڑ گاؤں میں واقع ہے ۔ نیچے پتھر کے بنے ہوئے درجنوں مکانات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page