پہلا سفر
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
اس طرح بر باد پڑے ہوتے ہیں جیسے کسی نے اوپر سے بمباری کر کے انہیں تباہ کر دیا ہو۔ یہ چھت کے بغیر ٹوٹی ہوئی دیواروں کا وسیع محلہ اس وقت کی یادگار ہے جب تقسیم سے قبل یہاں "مشیوخ " کی آبادی تھی۔ خانقاہ کے آس پاس کی تمام زمینیں خانقاہ پر وقف تھیں اور یہ شیوخ ان کے متولی تھے۔ شیوخ کی بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم یافتہ تھی ۔ اور وہ بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر تھے۔ مگر ان لوگوں نے مسلم لیگ کا ساتھ دیا تھا۔ تقسیم کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ ہندوستان میں ان کا مستقبل تاریک ہے ۔ اس لیے سب کے سب پاکستان چلے گیے ۔ ان کے جانے کے بعد ان کی بڑی بڑی زمینداریاں متروکہ جائیداد قرار دے دی گئیں جواب غیر مسلموں کے قبضہ میں ہیں۔ کوہِ ارولی کی بلندی پر کھڑے ہو کر آپ نیچے مشرق کی طرف نظر دوڑائیں تو ایک طرف خواجہ موسیٰ کی خانقاہ ہے جس میں مسلم خاندانوں کے بچے حال اور مستقبل سے بے خبر پڑے ہوئے ہیں ، ان کے جسم کے میلے اور پھٹے ہوئے کپڑے ان کی معاشی حالت کا بہ زبانِ خاموش اعلان کر رہے ہیں۔ انہیں میں ایک وہ طالب علم بھی ہے جو دونوں پیروں سے معذور ہے اور ہاتھ کے بل گھسٹ کر چلتا ہے۔ دوسری طرف اسی خانقاہ کے سامنے دور تک پھیلی ہوئی زمین ہے، پہلے یہاں کی زراعت کا تمام تر انحصار بارش پر تھا۔ مگر اب یہاں حکومت نے بجلی پہنچادی ہے اور جگہ جگہ ٹیوب ویل کے ساتھ ہری بھری فصلیں کھڑی نظر آتی ہیں ۔ میں نے اس پورے سفر میں محسوس کیا کہ حکومت اس علاقہ میں کثرت سے سڑکیں نکال رہی ہے اور بجلی کے تار پھیلا رہی ہے۔ مگر ان کا فائدہ زیادہ تر غیر مسلموں کے حصہ میں آیا ہے ۔ اس علاقے کے مسلمان تجارت کو حقیر چیز سمجھتے تھے۔ چنانچہ ساری تجارت غیر مسلموں کے قبضہ میں چلی گئی ، یہی وجہ ہے کہ آج سڑکوں کے اقتصادی فائدے کے وہ تنہا مالک ہیں ۔ البتہ زمینیں زیادہ تر مسلمانوں کے قبضہ میں تھیں ، اور اب بھی وہ کافی زمینوں کے مالک ہیں ، مگر یہاں تعلیم سے دوری ان کے لیے رکاوٹ بن گئی ہے ۔ اس علاقہ میں آپ کو بے شمار ٹیوب ویل نظر آئیں گے مگر وہ زیادہ تر غیر مسلموں کے ہیں۔ مسلمانوں میں مشکل سے کوئی ملے گا جو ٹیوب ویل اور ٹریکٹر سے کھیتی کر رہا ہو، وہ ابھی تک قدیم روایتی طرز کی کھیتی سے چٹے ہوئے ہیں۔ اسلام اس علاقہ میں بوسیدہ مکانات اور ٹوٹی ہوئی مسجدوں اور خانقاہوں میں پناہ گزیں ہے اور غیر مسلم جدید امکانات سے فائدہ اٹھا کر زمین کے اوپر مادی قبضہ کر رہے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader