دسواں سفر
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں، ان کے لئے سیلاب صرف ’’ہیلی کاپٹر کا ایک منظر‘‘ ہے۔ وہ ہوائی جہاز پر سوار ہو کر سیلاب کا طائرانہ مشاہدہ کر لیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کا خارجی مشاہدہ یا میکانیکل معائنہ کرنے والوں کو کیا خبر ہو سکتی ہے کہ سیلاب کس قیامت خیز مصیبت کا نام ہے۔ اور جب ذمہ داروں کو مصیبت کی ہولناکی کا احساس ہی نہ ہو تو وہ اس کے دفعیہ کی کیا کوشش کریں گے۔ اب صرف ایک چیز اس کی ضمانت بن سکتی تھی کہ وہ سیلاب پر کنٹرول کے سلسلہ میں اپنی واقعی ذمہ داریوں کو ادا کریں اور وہ یہ کہ ان کے دل میں مصیبت زدہ عوام کا درد ہوتا۔ مگر خیریت سے اس قسم کی کوئی چیز سرے سے وہاں موجود نہیں ہے۔ مجھے حال میں ایک مقام پر جانے کا اتفاق ہوا، جہاں ڈیڑھ ارب روپیہ کی لاگت سے ڈیم اور بجلی گھر وغیرہ کی اسکیم زیر تکمیل ہے۔ حالیہ سیلاب میں وہاں کا ایک باندھ ٹوٹ گیا۔ ایک شخص اس پر درد و غم کا اظہار کر رہا تھا کہ دوسرا شخص بولا : ــــــــــ ’’اجی غم کیسا، یہ تو ان لوگوں کی لاٹری کھل گئی‘‘۔ یعنی اب نیا باندھ بنے گا۔ اور اس میں متعلق لوگوں کو دو بارہ کمانے کا موقع مل جائے گا۔ ظاہر ہے کہ جہاں درد کی کمی کا یہ عالم ہو وہاں کسی بہتر نتیجہ کی امید کی جا سکتی ہے۔ سیلاب تو ایک وقتی مصیبت ہے جو آتی ہے، اور گزر جاتی ہے۔ مگر میوات کا اس سے بھی زیادہ بڑا سیلاب یہ ہے کہ یہاں کے سادہ لوح لوگ اب بھی ہزاروں برس پہلے کے روایتی ماحول میں رہتے ہیں، جب کہ حصول معاش کا اصل ذریعہ صرف زراعت تھا۔ وہ بھیڑوں کے غول کی طرح گردن جھکائے اپنے’’زمیندارہ‘‘ میں مشغول ہیں ۔ انہیں خبر نہیں کہ ان کے گرد و پیش کے ذرائع معاش پر صنعت و تجارت کا قبضہ ہو چکا ہے اور جب تک یہاں اپنی جگہ نہ بنائی جائے زمیندارہ پر بھی اپنا قبضہ بحال نہیں رہ سکتا۔ میرا خیال ہے کہ اس سلسلے میں کسی نئے آغاز کے لئے یہاں کے دینی مدارس بہت اچھا رول ادا کر سکتے ہیں۔ دینی مدارس نے تمام تر عوامی چندوں پر انحصار کر رکھا ہے۔ جن میں ان کے اساتذہ اور طلبہ سب مشغول رہتے ہیں۔ لیکن اگر وہ شعور اور حوصلہ سے کام لیں تو ایسے امکانات موجود ہیں جو انھیں چندہ کی’’ذلت‘‘ سے بھی نجات دلاسکتے ہیں، اور خود قوم کے لئے بھی نئی زندگی کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader