دسواں سفر
Urdu book, p. 141
By Maulana Wahiduddin Khan
مثال کے طور پر اس سفر میں ہم ۲۴ ستمبر کی صبح کو میں نگینہ گیا۔ نگینہ تجارتی اعتبار سے ایک بے حد موزوں مقام ہے۔ دہلی سے جو قومی شاہراہ جے پور اور احمد آباد ہوتی ہوئی بمبئی کو جاتی ہے۔ یہ مقام اس کے کنارے برکلی کے پاس واقع ہے۔ نگینہ کے اطراف میں چاروں طرف پچاسی گاؤں ہیں جہاں ۹۵ فی صد مبستے ہیں۔ ان ۸۵ بستیوں کا واحد مارکیٹنگ مرکز نگینہ ہے، جہاں کوئی ایک بھی میٹو دکان دار نہیں ۔ یہ بازار روزانہ بیو خریداروں سے بھرا رہتا ہے۔ اگر فی گاؤں پچاس روپیہ کی خریداری کا بھی اوسط لگایا جائے، جب بھی یہاں روزانہ چار پانچ ہزار روپیہ کی خریداری ہوتی ہے۔ وقتی خرید ارباب اس کے علاوہ ہیں مثلاً شب برات میں لوگوں کے اندازہ کے مطابق، تمام بستیوں میں کم از کم ایک لاکھ روپے کا سامان جاتا ہے، اسی طرح محرم میں۔ اور عید، بقرعید میں تو اس کی دگنی خریداری ہوتی ہے۔ گویا ان ۸۵ بستیوں کے سادہ لوح زمیندار کم سے کم اندازہ کے مطابق بھی ہر سال کم و بیش دس لاکھ روپیہ یہاں لاکر ڈھیر کر جاتے ہیں۔ نگینہ میں عین شاہراہ کے کنارے ایک مدرسہ قائم ہے جس کا نام دار العلوم ہے۔ میں نے پیمائش کرائی تو معلوم ہوا کہ سڑک کے کنارے اس کی جو زمین ہے وہ سوا سو گز ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں تین درجن دکانیں بن سکتی ہیں اور ان کے اوپر بھی کمرے بنائے جاسکتے ہیں۔ میں نے مدرسہ والوں کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ آپ لوگ ایک کو آپریٹو سوسائٹی بنائیے۔ اور اطراف کی ۸۵ بستیوں میں یہ تحریک چلائیے کہ لوگ اس میں فنڈ اکٹھا کریں۔ اور اس کے بعد صرف سوسائٹی کی رقم سے یا امداد سے لے کر یہاں سڑک کے کنارے ایک بازار تعمیر کیجئے ۔ دوکانوں کے منافع میں سوسائٹی کے تمام ممبران شریک ہوں گے۔ بازار تعمیر کر کے آپ لوگ خود بھی اس میں دکانیں کھولئے اور ۸۵ بستی کے لوگوں کو بھی آمادہ کیجئے کہ وہ یہاں مختلف چیزوں کی دکانیں قائم کریں۔ چند سال میں انشاء اللہ یہاں ایک زبردست مارکیٹ قائم ہو جائے گا جو نہ صرف ۸۵ بستیوں کے لوگوں کی خوش حالی کا سبب ہوگا بلکہ خود مدرسہ کے آخر اخراجات بھی بڑی حد تک اس سے نکل آئیں گے۔ اس اسکیم کا یہی ایک پہلو نہیں ہے کہ اس سے ایک پس ماندہ اور مفلوک الحال قوم کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader