Urdu book · میوات کا سفر

دسواں سفر

Urdu book, p. 142

By Maulana Wahiduddin Khan

ترقی میں شریک کیا جاسکتا ہے بلکہ اس کے اور بہت سے مفید پہلو ہیں۔ مثلاً موجودہ زمانہ میں مدارس چندہ پر انحصار کرنے کی وجہ سے سماج کے اندر اپنا حقیقی رول ادا نہیں کر پاتے۔ دینی مدرسہ حقیقتاً اصلاح امت کے مراکز ہیں مگر چندوں کی وجہ سے ملت کے اندر وہ اتنے بے وقعت بنے رہتے ہیں کہ دعوت و اصلاح کا کام مؤثر طور پر ادا نہیں کر سکتے۔ ان کے مبلغین کے مواعظ بھی چندہ کی اپیلوں کے ہم معنی ہو کر رہ گئے ہیں۔ ایسی حالت میں اگر وہ کسی درجہ میں خود کفیل ہو جائیں تو ان کو از سر نو ایک وقار حاصل ہو جائے گا اور وہ اپنے مقصد قیام کو زیادہ مؤثر طور پر ادا کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ اس قسم کے بے شمار مدارس نہ صرف میوات میں بلکہ سارے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اگر یہ مدارس اپنے روایتی خول سے باہر آ جائیں اور کو آپریٹو سوسائٹی اور کو آپریٹو اسٹور کی قسم کی اقتصادی اسکیمیں چلانے لگیں تو نہ صرف یہ کہ وہ باعزت معاش حاصل کرنے کے قابل ہو جائیں گے بلکہ بالواسطہ طور پر خود اس دینی مقصد کے لئے بھی کثیر فوائد حاصل ہوں گے جس کے لئے یہ مدارس قائم کئے گئے ہیں۔ اس کام کی اقتصادی تقویت کے لئے مسلم کو آپریٹو بینک یا مسلم فنڈ قائم کئے جاسکتے ہیں۔ جن میں لوگوں کی بچتیں جمع ہوں اور ان کو قابل اعتماد تجارتوں میں لگایا جائے ۔ اس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ اگر اس قسم کے بینک یا فنڈ چلائے جائیں تو ان میں کثیر روپیہ جمع ہو سکتا ہے۔ اور بڑی بڑی اقتصادی اسکیمیں زیر عمل لائی جاسکتی ہیں۔ البتہ ضرورت ہے محنت کی، دیانت داری کی اور حالات زمانہ کے فہم کی۔ میوات میں میتوں کا حال سن کر کلیجہ دہل جاتا ہے۔ زمین پر انحصار اور سودی قرضوں کے رواج نے اس قوم کی کمر توڑ دی ہے۔ بیشتر میواتیوں کی زمینیں رہن پر چڑھ چکی ہوئی ہیں۔ کتنے ایسے ہیں جن کی زمینیں قرض اور سود کے چکر میں تمام کی تمام مہاجن کے پاس جا چکی ہیں۔ یہاں کا مہاجن میو قوم کی سادہ لوحی سے پورا فائدہ اٹھارہا ہے۔ جہالت اور اقتصادی بدحالی نے اب نئے نئے نقصانات پیدا کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ مثلاً آج کل اس علاقہ میں نس بندی کی تحریک تیزی سے کامیاب ہو رہی ہے۔ ۲۰ روپے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page