دسواں سفر
Urdu book, p. 143
By Maulana Wahiduddin Khan
نقد ، ایک کمبل اور ۵۰۰ روپے بیل کے لئے تقاوی کی خوش نما پیش کش میوں کے لئے کافی پر کشش ثابت ہو رہی ہے۔ کیوں کہ فاقہ کشی اور قرضوں کے بوجھ کے نیچے دبے ہوئے میو کے لئے اتنا بھی بہت ہے۔ " اگر یہی حالت رہی " ایک شخص نے کہا " تو میو قوم ۲۰ - ۲۵ سال میں خانہ بدوش ہو جائے گی۔ کیونکہ زمینیں اس کے پاس سے نکل جائیں گی یا اتنی کم ہو چکی ہوں گی کہ زمینوں سے گزر نہ نہیں ہوگا اور وہ مجبور ہوں گے کہ ادھر ادھر جا کر مزدوری تلاش کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میوؤں کی بے شعوری مستقبل میں ان سے وہ آخری چیز بھی چھین لینے والی ہے جو سب کچھ لٹانے کے بعد ابھی ان کے پاس باقی رہ گئی ہے ، اور وہ ان کا " ملک " میوات ہے۔ میوات وہ علاقہ ہے جہاں میو اب بھی عددی اکثریت رکھتے ہیں۔ اور اس بنا پر اس علاقہ میں بہت سے معاشی اور سماجی کام کرنے کے خصوصی مواقع انہیں حاصل ہیں۔ مگر انتقادی تباہی کا جو عمل ان کے درمیان جاری ہے وہ بالآخر ان کی آبادی کو منتشر کر دینے والا ہے۔ اس لئے شدید خطرہ ہے کہ یہ قوم اگر نہیں جاگی تو مستقبل کے حالات اس کے لئے ایسا معاشی دباؤ ثابت ہوں گے جن کو وہ برداشت نہ کر سکے گی۔ اور اپنے محبوب وطن سے نکلنے پر مجبور ہو جائے گی ، تاکہ ملک کے دیگر شہروں میں جا کر اپنے لئے محنت مزدوری کا کام تلاش کرے ۔ اس طرح موجودہ علاقہ میں ان کی عددی اکثریت کا افسانہ بھی ختم ہو جائے گا اور خود میو قوم کا فسانہ بھی ۔ کیوں کہ فاقہ زدہ اور منتشر قوم کی کوئی قومیت نہیں ہوتی ۔ جب کہ وہ جہالت کی وجہ سے اپنا خودی کا شعور بھی کھو چکی ہو ۔ میو قوم کی سادگی کا عالم یہ ہے کہ فصل میں ایک شخص کے یہاں پانچ ہزار رو پے آئے تو وہ ان کو لے جاکر لالہ جی کے یہاں رکھ دے گا اور کہے گا کہ ان کو تو بس الگ رکھو ۔ اور پھر انہیں لالہ جی کے یہاں سے کپڑا اور بیج اور ضرورت کی چیزیں ادھار خرید کر لائے گا۔ جس کی قیمت لالہ جی سود کے ساتھ وصول کرتے رہیں گے ، اسی طرح وہ سال بھر سود ہی قرض لیتا رہے گا اور اپنے پانچ ہزار روپے کو لالہ جی کے یہاں " محفوظ " رکھے گا۔ اس کو یہ بھی نہیں معلوم کہ اگر روپیہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader