Urdu book · میوات کا سفر

دسواں سفر

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

کو محفوظ رکھنا ہی ہے تو زیادہ بہتر شکل یہ ہے کہ اس کو ڈاک خانہ یا بینک میں رکھ دیا جائے۔ فیروزپور میں ایک میو کی ماں سڑے ہوئے انگوروں کا ایک خوشہ خرید کر ریزگاری گن رہی تھی، اس کے پاس چھ سال کی ایک بچی کھڑی تھی جس کے دونوں کانوں میں سات سات بینتی کی بالیاں گندھی ہوئی تھیں۔ پورا کان پک کر سوچ رہا تھا۔ میں نے اس کے بھائی (تخمیناً ۱۲ سال) سے پوچھا۔ اس کا نام کیا ہے۔ ”رئینن“ اس نے جواب دیا۔ گھر کہاں ہے۔ ”گھائو۔“ اس ایک واقعہ میں پوری میو قوم کی تصویر چھپی ہوئی ہے۔ ۲۴ ستمبر کو پہر کا کچھ وقت فیروز پور میں گزرا۔ فیروز پور جھیرکا کی آبادی تقریباً ۱۰ ہزار ہے جس میں ۹۹ فی صد سے زیادہ غیر مسلم آباد ہیں۔ پورا مارکیٹ انھیں کے قبضہ میں ہے۔ مگر خریدار ۵۷ فی صد میو ہوتے ہیں جو روزانہ بڑی تعداد میں اطراف کی بستیوں سے آتے ہیں، بازار سے گزرتے ہوئے یہ منظر بڑا عجیب تھا کہ تقریباً ہر دوکان پر داڑھی رکھے ہوئے سادہ لوح میو خریداری کر رہے ہیں اور رورو بیگن گن کر دے رہے ہیں۔ ان کے دبلے چہرے اور میلے اور پھٹے ہوئے لباس بتا رہے تھے کہ ان کی یہ خریداری اور روپوشاری کسی خوش حالی کی علامت نہیں۔ وہ صرف ان کی بدحالی کا نشان ہے جس کو وہ نہایت مہنگی قیمت پر خرید رہے ہیں۔ فیروز پور کسی وقت نواب شمس الدین خاں کا دارالسلطنت تھا۔ مگر اب اس دور کی علامت صرف دو چیزیں باقی رہ گئی ہیں۔ ایک اس کی شکستہ شہر پناہ اور دوسرے مسجد جس کے بلند مینارے دور سے نظر آتے ہیں۔ مسجد کے صدر دروازہ پر ایک قطعہ تاریخ ہے جس میں شاعر کو "ہاتف" نکتہ داں نے ”خوشا مسجد“ کے لطیف و عجیب کے الفاظ میں اس کی تاریخ بتائی تھی جو ۱۲۴۲ ھ ہوتی ہے۔ ڈیڑھ سو سال قدیم مسجد کا طول و عرض ایک طرف اس کے ماضی کی عظمت کو بتا رہا ہے دوسری طرف اس کا نا ہموار فرش اور پھٹی ہوئی دریاں بتا رہی ہیں کہ وہ کون سا حال ہے جو آج اس کی وراثت میں آیا ہے۔ فیروز پور جھیرکا کے پس منظر میں مشہور ”کالا پہاڑ“ ہے جو دہلی سے راجپوتانہ تک تقریباً ۸۰ میل کی لمبائی میں پھیلا ہوا ہے۔ یہاں جگہ جگہ پہاڑ کے اوپر چھوٹی چھوٹی مسجدیں دکھائی دیتی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page