Urdu book · میوات کا سفر

دسواں سفر

Urdu book, p. 145

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں، جن کا موجودہ حال یہ ہے کہ چھت ابا بیلوں کا مسکن اور فرش چڑیوں کی بیٹ سے بھرا ہوا ہے۔ پہاڑ کی دراڑوں نے پر اسرار کہانیوں کی شکل اختیار کر لی ہے ۔ یہاں جنات بستے ہیں “ ایک ساتھی نے کہا ” ان گچھاﺅں میں ان کے شہر کے شہر آباد ہیں “ فیروز پور سے پانچ کلومیٹر کے فاصلہ پر ” شیو مندر “ ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ پر چین بھارت سے قائم ہے۔ وہاں ایک بورڈ لٹک رہا ہے جس پر درج ہے کہ جیون لال نامی ایک تحصیل دار نے ۱۸۷۷ء میں اس کے اوپر پختہ عمارت تعمیر کرائی تھی۔ اب سڑک اور بجلی یہاں تک پہنچا دی گئی ہے۔ میرے ساتھی مجھے اس قسم کی کہانیاں سنا رہے تھے ۔ اور میں سبز پوش پہاڑوں کو دیکھ رہا تھا جو میرے چاروں طرف حد نظر تک پھیلے ہوئے تھے ۔ میں نے سوچا ” قدرت نے پتھر کی چٹانوں میں درخت اور سنہرے اگاکر ان پہاڑوں کو عظیم علامت کی شکل میں کھڑا کر دیا ہے۔ یہ سنگی بلندیاں زبان حال سے کہہ رہی ہیں کہ اگر ہمت اور دانش مندی ہو تو قدرت نے یہاں یہ امکان بھی رکھا ہے کہ آدمی سنگلاخ چٹانوں سے زندگی کا سبز باغ اگا سکے۔ مگر قدرت کی اس عظیم پکار کے دامن میں میو قوم کا حال یہ ہے کہ اس کی زرخیز زمینیں بھی اس کے لئے صرف افلاس اور مفلوک الحالی کی فصل اگارہی ہیں۔ میوات کا نصف سے زیادہ حصہ ہریانہ میں واقع ہے ۔ ہریانہ ہندوستان کی واحد ریاست ہے جہاں حال میں ہر گاﺅں میں سڑک اور بجلی پہنچائی گئی ہے۔ میں نے دیکھا کہ اگر چہ ٹیڑھے کھمبے اور غیر مستقیم لائنوں کو درست کرنے پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی ہے، مگر بجلی ہر جگہ پہنچا دی گئی ہے۔ اور سڑک بھی خواہ جس شکل میں ہو، ہر چھوٹے بڑے گاﺅں تک جاتی ہے۔ ہریانہ کی اس ترقی نے لوگوں کو کام کرنے کے زبر دست مواقع فراہم کر دئے ہیں۔ مگر سڑکوں کی کثرت کے باوجود میو قوم کی گاڑی ابھی منزل کی طرف رواں دواں نہیں ہوئی ۔ اور بجلی کے کھمبے ہر جگہ پہنچ جانے کے باوجود ان کی زندگی کے گوشے ابھی روشن نہیں ہوئے ۔ ان کی زراعت سیلاب کا شکار ہے اور ان کی زندگیاں آپس کی لڑائیوں کی نذر ہو رہی ہیں۔ ۲۵ ستمبر کو ظہر کی نماز ہم نے بیواں کی ” بڑی درگاہ “ میں ادا کی۔ یہاں ایک بہت بڑی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page