دسواں سفر
Urdu book, p. 146
By Maulana Wahiduddin Khan
مسجد اپنے شکستہ درو دیوار کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے۔ مسجد کے اندر ایک مدرسہ قائم ہے۔ ٹوٹے ہوئے فرش پر املسی کے درخت کے نیچے کچھ بچے بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے میلے اور پھٹے ہوئے کپڑے ان کی معاشی حالت کا اعلان کر رہے تھے۔ ایک چھوٹا بچہ بلند آواز سے پڑھ رہا تھا : ب الف زبر با ن زبر ن = بان ب و پیش بون ن زبر ن = بون ب ی زیر بی ن زبر ن = بین مسجد اور اس سے متعلق عمارتوں کی وسعت اپنی ماضی کی عظمت کو بتا رہی تھی اور بچوں کا ” مدرسہ “ حال کی زبوں حالی کا مرثیہ خواں تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ مسجد اور درگاہ شاہ جہاں کے دور کے بنے ہوئے ہیں۔ درگاہ کے سامنے ایک کافی بڑا تالاب ہے۔ اگر اس میں مچھلی پالی جائے تو صرف اسی کی آمدنی مسجد اور مدرسہ کی ضروریات کے لئے کافی ہو جائے۔ درگاہ کے اطراف میں اس کی کافی زمینیں خالی پڑی ہوئی ہیں جہاں سبزی اور درخت اگائے جاسکتے ہیں ۔ مجموعی رقبہ تقریباً پندرہ بیگھہ ہوگا ۔ درگاہ اور مدرسہ کے لوگوں سے بات کیجیئے تو غیر ضروری باتوں کا ان کے پاس انبار ملے گا۔ مثلاً : فلاں نواب نے ۵۲ قلعے فتح کئے۔ یہاں دو دو سو گھوڑے بندھے رہتے تھے۔ حوالہ منکل فنج عمیق کا یہ کتبہ فلاں بزرگ نے لکھا تھا۔ اس کے تخت ۲۲ خانقاہیں چلتی تھیں ۔ وغیرہ ۔ مگر ضر درمی سوالات کا جواب ان میں سے کسی کو نہیں معلوم ۔ ” اس عمارت کا سن تعمیر کیا ہے؟ “ زمین کا کل رقبہ کتنا ہے ؟ “ یہ ٹکڑا اور گاہ کے نام ہے یا گرام پنچایت کے نام “ اس قسم کے سوالات جو عمارت کی اصلی تصویر بنانے کے لئے ضروری ہیں ، اس کا جواب انہیں نہیں معلوم ” بس جی آپن تو کچھ اندازہ نہیں“ میرے سوال کے جواب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader