دسواں سفر
Urdu book, p. 147
By Maulana Wahiduddin Khan
میں ایک بزرگ نے کہا۔ دوسرے نے جواب دیا: ”یہ بات کا کوئی پتو نا ہے!“ میں نے کہا کہ چاروں طرف چہار دیواری کیوں نہیں آپ لوگ بنا لیتے ___ جو اب ملا ”اجی مرن بھی نا ہو پائے ، چہار دیواری کا پیسہ کہاں سے آئے ؟“ اب میں ہریانہ کی سرحد پر گوڑگاؤں کے مشرقی کنارے پہنچ چکا تھا۔ یہاں اس وقت عجیب منظر تھا۔ مغرب میں بڈیڈ کی پہاڑیاں ہیں اور جنوب میں راجستھان کا بند، مشرق میں اجینہ ڈرین کا ریگیو لیٹر۔ آپ اگر راجستھان باڈر پر کھڑے ہوں تو ان کے بیچ میں حد نظر تک پانی ہی پانی نظر آئے گا۔ فصیلیں ڈوبی ہوئی ، بستیوں میں پانی گھسا ہوا ، غرض عجیب اندوہناک منظر ہے جس کی لفظوں میں انتہانہ کشتی نہیں کی جاسکتی۔ حکومت نے پونے چار کروڑ روپے کے خرچ سے ایک نہر نکالی تھی تاکہ اس علاقے کا پانی راجستھان اور یو پی میں ہوتا ہوا جمنا میں جاگرے۔ مگر اس قیمتی نہر کے بعد سیلاب کی مصیبت اور بڑھ گئی۔ اب ریاست راجستھان نے بند باندھ رکھا ہے۔ بند کے جنوبی سمت (راجستھان میں) خشک کھیت ہیں اور بند کے شمال جانب ہریانہ میں پانی بھرا ہوا ہے۔ ایک مرتبہ لوگوں نے کوشش کی کہ بند کاٹ دیں تاکہ پانی دوسری طرف پھیل جائے۔ مگر اس کے بعد راجستھان گورنمنٹ نے بند پر پولیس کا ایک مستقل کیمپ لگا دیا۔ شام کو ۵ بجے جب میں وہاں سے گزرانو پولیس کے لوگ سبزی کاٹنے میں مشغول تھے۔ یہ منظر دیکھ کر ایسا نظر آیا جیسے ہریانہ اور راجستھان دو الگ الگ ملک ہیں جو ایک دوسرے کے خلاف سنگینیں تانے کھڑے ہیں۔ ۲۶ ستمبر کی صبح کو میں بڈیڈ کے پہاڑ پر چڑھا تاکہ بلندی سے سیلاب کا منظر دیکھ سکوں۔ مشرق کی جانب رخ کر کے میں کھڑا ہوا تو میرے بائیں جانب دور تک خشک زمین پھیلی ہوئی تھی۔ یہ کسی قدر بلندی کی وجہ سے سیلاب کے پانی سے محفوظ تھی۔ مگر یہ دوسری شدید تر بدقسمتی کا شکار ہے۔ یہ پوری زمین نشور ہو گئی ہے اور یہاں سفیدی کے سوا کچھ اور نظر نہیں آتا۔ سامنے اور دائیں جانب کا علاقہ حد نظر تک زیر آب ہے۔ یہ قابل کاشت زمین تھی، مگر غلط فہمی نہ ہو۔ یہ گنے اور باجرے کے کھیت نہیں تھے ، بلکہ یہ یہاں کی نہ بان میں ”ڈھڈن“ کی فصل تھی جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader