دسواں سفر
Urdu book, p. 148
By Maulana Wahiduddin Khan
پانی میں خراب نہیں ہوتی اور مویشیوں کے یا ایندھن کے کام آتی ہے۔ صبح چھ بجے، ایک طرف، انسانی آفت کے یہ الم ناک مناظر تھے، دوسری طرف سورج کا سنہری چمک دار گولاسامنے سے بلند ہورہا تھا۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے سبک خرامی کے ساتھ مجھے چھوتے ہوئے گزر رہے تھے، میں نے سوچا ”قدرت کا نظام کتنا حسین ہے، مگر انسان نے اپنی نادانیوں سے اس کو کتنا الم ناک بنادیا ہے“۔ میوات کی تاریک تقدیر کے اندر کچھ روشن پہلو بھی نمایاں ہورہے ہیں۔ مثلاً پونا ہانہ میں پچھلے دوسال کے اندر تقریباً ۲۰ دکانیں میوؤں کی کھل گئی ہیں اور کامیاب ہیں۔ یہاں وہ لوگ ایک صنعتی ادارہ بھی کھول رہے ہیں جس میں میو بچوں کو مختلف صنعتی چیزیں سکھائی جائیں گی۔ سویا ہوا میوات جاگ رہا ہے ۔ اگر چہ بہت آہستہ آہستہ، اگرچہ بہت دیر کے بعد۔ عبدالکریم (۳۰ سال) سے میں نے پوچھا آپ کیا کام کرتے ہیں۔ ”جی اس وقت تو کچھ نہیں۔ مزید دریافت کے بعد انھوں نے جو کہانی بتائی اس سے یہاں کے لوگوں کی مشکلات کا اندازہ ہوگا۔ عبدالکریم میواتی کے پاس زمین نہیں، کوئی جائداد نہیں، پھر وہ کیا کریں، انھوں نے طے کیا کہ دودھ کا کام کریں گے۔ وہ روزانہ گاؤں سے دودھ خریدتے اور اس کو لے جاکر ”دہلی ملک اسکیم“ کے پونا ہانہ ڈپو میں بیچتے تھے۔ سائیکل پر بالٹی نما چار ڈبے لٹکے ہوتے۔ ہرڈبہ میں ۲۰ کلو دودھ۔ ڈبے سمیت ان کا وزن ایک سو کلو۔ اس حلیہ میں ایک روز سڑک پر جارہے تھے کہ سامنے سے ایک ٹریکٹر آگیا۔ سائیکل سنبھل نہ سکی اور بچانے کی کوشش میں الٹ گئی۔ ایک ڈبہ چھوٹ گیا اور اس کا بینڈ عبدالکریم میواتی کے پاؤں پر پر چین ایڑی کے پاس آکر گر اور جس سے ایڑی کے پاس کی شہ رگ کٹ گئی۔ اب ضرر نہ تھی کہ ان کو کسی اسپتال میں داخل کیا جائے ۔ مگر ان کے ساتھی یو نہانہ کی ڈسپنسری میں مرہم پٹی کرا کر ان کو گھر اٹھالائے اور گھر پر علاج ہوتا رہا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کا پاؤں اب مستقل طور پر کمزور ہوگیا۔ وہ زیادہ بھاری بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ نہ زیادہ سائیکل چلا سکتے۔ وہ اردو ، ہندی، دینیات اور ابتدائی حساب پڑھا سکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader