گیارھواں سفر
Urdu book, p. 149
By Maulana Wahiduddin Khan
گیارہواں سفر ۳ فروری ۱۹۷۲ء کی صبح کو دو روز کے لیے میوات کے سفر پر روانہ ہوا۔ ایک درجن کے قریب میوات کا سفر کرنے کے بعد غالباً اب قارئین کے لیے میوات کے رو داد سفر میں کوئی کشش باقی نہیں رہی۔ میں اس میں اتنا اور اضافہ کروں گا کہ خود مسافر کا حال بھی اس معاملہ میں کچھ مختلف نہیں ہے۔ دوستوں کے اصرار پر کیے جانے والے اس سفر میں ذاتی دلچسپی کا جزو، صرف اتنا تھا کہ شاید میوات اب جاگ اٹھا ہو اور کچھ ایسے مشاہدات سامنے آئیں کہ مسافر کو اپنی ڈائری کے بجائے "میوات کی ڈائری" لکھنے کی سعادت نصیب ہو۔ مگر سفر کی تکمیل کے بعد معلوم ہوا کہ ابھی میوات نے اپنا سفر شروع نہیں کیا۔ ابھی قارئین کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ مسافر کی رو داد سفر پڑھیں۔ میوات کے اپنے سفر کی داستان سننے کا وقت ابھی ان کے لیے نہیں آیا۔ فیروز پور جھیر کہ ہماری پہلی منزل تھی۔ صبح کی روشنی میں قصبہ کے نو تعمیر مکانات جھلک رہے تھے۔ پشت پر "کالا پہاڑ" کی دیواریں دور تک چلی گئی تھیں۔ سامنے سڑک تک ہرے بھرے کھیت سرسوں کے بہنتی پھولوں کے ساتھ رنگین مخملی فرش کا منظر پیش کر رہے تھے۔ اس علاقہ میں فیروز پور جھیر کا سب سے بڑا تجارتی مرکز ہے۔ مگر اس میں "میووں" کا حصہ صرف اتنا ہے کہ چند کھو کے انہوں نے بھی لگا رکھے ہیں جن میں سے کسی میں حجام کی دکان ہے اور کسی میں چاے اور کھانے کا ہوٹل۔ جو اکثر اوقات سنان پڑا رہتا ہے۔ ہمارے یہاں بھی تک تجارت اس کا نام ہے کہ حجامت خانہ کھول لیا جابے یا کوئی ہوٹل قائم کر دیا جائے۔ تجارت کا جدید مفہوم ابھی تک ہمیں نہیں معلوم۔ فیروز پور جھیر کا سے پہاڑی تک پورا راستہ پہاڑیوں کے درمیان طے ہوتا ہے۔ ہم آگے بڑھے تو راستہ میں میو اپنے روایتی حلیہ میں جگہ جگہ نظر آرہے تھے۔ ایک جگہ دو میو سڑک پر چل رہے تھے۔ جسم کے نچلے حصے میں سفید رنگ کی دھوتی کی طرح بندھی ہوئی تہمہ جو میلے پن کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader