پہلا سفر
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
پہاڑی سے اتر کر ہم دوبارہ قصبہ نوح کی طرف واپس ہوتے تو چودھری امید خاں نمبر دار سے ملاقات ہوئی ، جو قریب ہی موضع سونکھ میں رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں سب زمینیں مسلمانوں کی تھیں۔ غیر مسلم لوگ زیادہ تر ہریجن یا مزدور اور خدمت گار قسم کے تھے۔ مالک زمین اور صاحب حیثیت زیادہ تر مسلمان تھے ۔ تقسیم کے بعد بیشتر مسلمان پاکستان چلے گئے ۔ ”آپ یہاں کیسے رہ گئے “ ، میں نے نمبر دار سے پوچھا ۔ ” فساد کے زمانے میں ہم موضع سوہنا چلے گئے تھے “ انہوں نے جواب دیا، سات روز ہم وہاں پڑے رہے۔ اس کے بعد چودھری یسین خاں اور مولانا حفظ الرحمن وغیرہ آتے۔ انہوں نے تقریریں کیں اور کہا کہ اپنے مکانوں میں چلو، ہم نے انتظام کر لیا ہے ۔ حکومت تمہاری مدد کرے گی چنانچہ ہم دوبارہ واپس آئے ، یہاں ہم کو اپنی زمین اور مکانات مل گئے ۔“ ” خان بہادر بھگانے میں تھے ، چودھری یسین جماتنے میں “، میرے دوسرے ساتھی نے کہا خان بہادر یہاں کے مسلم لیگی لیڈر تھے اور چودھری یسین کانگریسی خیال کے آدمی تھے ۔ علاقہ میں اکثریت مسلم لیگی لوگوں کے ذہن کی بھتی۔ جب ملک تقسیم ہو گیا ، تو مسلم لیگ کے لیڈروں نے زور و شور کے ساتھ ” پاکستان چلو“ کی تحریک شروع کی۔ اس کے برعکس جمعتہ علماء اور کانگریس کے لیڈر جماتنے اور ٹھہرانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس سے اندازہ کیجئے کہ سیاسی خیالات انسان کی زندگی سے کتنا گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ جن لوگوں نے پاکستان کو اپنا ذہنی نشانہ بنا رکھا تھا وہ پاکستان بننے کے بعد بھارت میں اپنے کو بے جگہ محسوس کرنے لگے ۔ ان کی سمجھ میں اس کے سوا کوئی بات نہیں آتی تھی کہ وہ خود بھی اسی خطہ ارضی میں چلے جائیں جہاں ان کے ذہنی خوابوں نے عملی شکل اختیار کی ہے، اس کے برعکس جو لوگ پورے ملک کو اپنا وطن سمجھ کر ملکی سطح پر سوچتے تھے ان کے لیے تقسیم ملک سے اس قسم کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا تھا کہ وہ یہاں رہیں یا کہیں اور چلے جائیں ۔ اس ذہنی فرق نے ہندوستانی مسلمانوں کی زندگی میں زبردست نتائج پیدا کیے ہیں۔ ایک طرف مسلم لیگی ذہن نے بگھڈڑ کا رجحان پیدا کیا ، جس کو اسلامی رنگ دینے کے لیے ہجرت کا خوش نما عنوان دیا گیا ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تقسیم کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کی جو تعداد پاکستان گئی ہے اس کی بہت بڑی اکثریت وہی ہے جو پاکستانی خیالات سے متاثر تھی ، دوسری طرف جمعتہ علماء اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader