Urdu book · میوات کا سفر

گیارھواں سفر

Urdu book, p. 150

By Maulana Wahiduddin Khan

آخری حد کو پہو نچ چکی تھی ۔ اوپر ایک میلا سا کرتا اور گلے دن میں کالے رنگ کی چادر ، کندھے سے ایک گھٹڑی لٹکی ہوئی ۔ اس حلیہ پر جو آخری اضافہ تھا وہ یہ کہ وہ اپنے سینے تک اٹھتے ہوئے ہاتھ میں ایک تسبیح سنبھالے ہوئے تھا ۔ اور اپنے ساتھی سے بات کرتا ہوا تسبیح بھی پڑھتا جا رہا تھا ۔ آگے بڑھے تو گھاٹنا اور لسی نامی بستیاں سامنے تھیں۔ یہاں ہر یکیونس اور کمہاروں نے سڑک کے کنارے سے پختہ مکانات اور دکانیں تعمیر کرلی ہیں۔ دوسری طرف نظر آیا کہ پہاڑ کے کنارے ٹرک کھڑے ہوئے ہیں اور میو اور میو نیاں پتھر توڑ توڑ کر ٹرک پر لا د رہے ہیں ۔ "ان لوگوں کا نظریہ " میں نے سوچا " شاید یہ ہے کہ دین کے لیے تسبیح پڑھ لو اور دنیا کے لیے پتھر توڑ لو"۔ اسلام کا یہ تصور بھی کتنا عجیب ہے جو ان کی زندگیوں میں کسی دیکھنے والے کو نظر آتا ہے ۔ مگر یہ صرف بے چارے میوؤں کا حال نہیں ، بلکہ ساری ملت اسی بربادی کا شکار ہو رہی ہے ۔ اور ان کا بھی کیا قصور، جب کہ ان کے قائدین نے ان کو یہی بتایا ہو تو وہ اس کے سوا اور کیا کر سکتے ہیں ۔ پچھلے چند سالوں میں میں نے مسلسل میوات کا سفر کیا ہے اور لوگوں کو متوجہ کیا ہے کہ وہ زمانہ کو سمجھیں اور گہری بنیادوں پر اپنی ترقی کی منصوبہ بندی کریں۔ مگر اس قسم کی آواز میں لوگوں کے لیے کوئی کشش نہیں ۔ اس دور میں ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ طویل مدت تک غلط راہوں میں دوڑنے کی وجہ سے ساری قوم کا مزاج بگڑ گیا ہے ۔ ہمارے ذہن ایسی روایات کے درمیان پرورش پا کر تیار ہوئے ہیں کہ اب اس سے ہٹ کر سوچنا ان کے لیے نا ممکن ہو گیا ہے ۔ ہماری قوم کو یا تو ان لوگوں کی آواز میں اپیل کرتی ہیں جو مذہب کے نام پرستی گولیاں تحسیم کرتے ہوں یا اس کے لیے ان لوگوں کے اندر کشش ہے جو سیاست کے نام پر جذباتی نعرے بلند کرتے ہوں ۔ آپ دیکھیں تو اس مردہ قوم کے اندر نہ صرف میوات میں بلکہ سارے ملک میں زبردست سرگر میاں نظر آئیں گی ۔ مگر ان سرگرمیوں کی حقیقت ندبو جما سے زیادہ نہیں ۔ کیوں کہ یہ یا تو پر اسرار گولیوں کی خاطر ہے یا اس لا عینی جوشش وحروش کی پیدا کردہ ہے جس کو یہ بے خبر قوم ملی سیاست کا نام دیتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہب و سیاست کے نام پر عام طور پر ہمارے یہاں جو کچھ ہو رہا ہے ۔ وہ نہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page