Urdu book · میوات کا سفر

گیارھواں سفر

Urdu book, p. 151

By Maulana Wahiduddin Khan

مذہب ہے اور نہ سیاست۔ مذہب، انسانی شخصیت میں ایک عظیم تغیر کا نام ہے ۔ اور اسی طرح سیاست ایک نہایت گہری دور رس منصوبہ بندی ہے۔ مگر آپ کو نہ کہیں یہ تغیر نظر آئے گا اور نہ یہ منصوبہ بندی۔ اگر جماعتوں اور شخصیتوں کو دیکھئے تو ہر ایک اپنی کامیابیوں اور کامرانیوں کی انسائیکلو پیڈیا کی فہرست اپنے ساتھ لیے ہوئے ہے ۔ اگر مذہب اور سیاست کے میدانوں میں فی الواقع ہمیں یہ کامیابیاں اور کامرانیاں ملی ہوتیں جو ہماری جماعتوں اور شخصیتوں کی فہرست میں درج ہیں تو اب تک ہم سارے عالم میں چھپا چکے ہوتے اور ایورسٹ کی چوٹی سے لے کر چاند کی سطح تک کوئی میدان نہ ہوتا جو ہمارے قدموں سے پامال نہ ہو رہا ہو۔ ۱۰ بجے ہم پہاڑی پہنچے ۔ مدرسہ میں پہونچتے ہی لڑکوں کا ایک غول نکلا ۔ دنیا و مافیہا سے بے خبر یہ معصوم بچے صرف اتنا جانتے ہیں کہ جب کوئی " حضرت " تشریف لائیں تو یہ اپنے دونوں ہاتھ بڑھا کر اس سے مصافحہ کر لیں۔ یہ لوگ مصافحہ کر کے خاموش اپنے کلاس میں چلے گیے ، جو پیال بیچھے ہوئے ایک فرش پر قائم تھا۔ اب بچوں کے پڑھنے کی آوازیں آنے لگیں ۔ وہ جھوم جھوم کر خوش الحانی کے ساتھ اشعار دہرا رہے تھے ۔ میں نے دو لڑکوں کو بلایا کہ وہ اپنی کتاب سے کچھ سنائیں ۔ انھوں نے کتاب کا ایک باب کھولا جس میں آسمان اور اس کی چیزوں کا بیان ہے ۔ جو اشعار انھوں نے سنائے ، اس میں سے ایک شعر یہ تھا : تارے جو پھرتے ہیں خود سیارہ ہیں اور ثوابت باقی اے ماہ پارہ ہیں یہ ہے وہ علم الافلاک جو بیسویں صدی میں ہمارے مدرسہ کے بچوں کو پڑھایا جاتا ہے ۔ پہاڑی کے مدرسہ کے اوپر کھڑے ہوں تو مشرق کی طرف قصبہ اپنی نئی عمارتوں کے ساتھ ابھرتا ہوا نظر آئے گا ۔ دوسری طرف مغرب میں ہر یالے کھیتوں کا سلسلہ پھیلا ہوا ہے ۔ کھیتوں کے درمیان جگہ جگہ متفرق درخت ہری مخمل کے فرش پر ابھرے ہوئے پھول کی مانند بکھرے ہوئے ہیں ۔ اس کے آگے شمال سے جنوب تک پہاڑ کی دیواریں حد نظر تک پھیلی ہوئی ہیں ۔ ان مناظر کے اوپر آسمان کی چھت اور اس میں تیرتے ہوئے سفید بادل عجیب آفاقی حسن کا منظر پیش کر رہے ہیں ۔ " قدرت کتنی حسین ہے " میری زبان سے نکلا ۔ مگر اس کے بعد جب میری نظر اس قوم کی طرف گئی جو گویا دنیا میں اس قدرت کی نمائندہ ہے تو میرے رنج و غم کی کوئی انتہا نہ تھی ۔ کیوں کہ یہ قوم اپنے ٹوٹے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page