گیارھواں سفر
Urdu book, p. 152
By Maulana Wahiduddin Khan
چھوٹے مدرسوں اور اپنی غربت و جہالت کے ساتھ ایک ایسی نمائندہ تھی ، جو آفاقی حسن رکھنے والی قدرت کے اوپر صرف ایک بد نما دھبہ کہی جا سکتی ہے ۔ کس قدر نادان ہیں وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ اس حسین و قدرت کی نمائندگی ایک ایسی قوم بھی کر سکتی ہے جس کو دائمی طور پر جہالت اور غربت کی خندق میں ڈال دیا گیا ہو ۔ ”بزرگوں“ کی زیارت کرنے ، ان کو نفلی حج ادا کرانے اور اگر وہ مر جائیں تو ان کی قبر کونے یارت گاہ بنا کر اس پر یہ قوم کروڑوں روپے خرچ کر سکتی ہے مگر اس کے لیے یہ ممکن نہیں کہ ایک ایسا ادارہ قائم کرے جہاں ایسے لوگ تیار کیے جائیں جو زمانہ کو سمجھیں اور وقت کے مطابق قوم کی رہنمائی کریں ۔ اس بد نصیب قوم کا حال یہ ہے کہ قرآن کے نسخہ پر اگہ ہدیہ کے بجائے ” قیمت “ لکھ دیجئے تو لڑنے کے لیے تیار ہو جائے گی ، مگر وہ یہ نہیں کر سکتی کہ قرآن کے لیے کوئی بڑا فنڈ فراہم کرے کہ دیگر اقوام کی زبانوں میں قرآن کے سستے ترجمے تیار کر کے پھیلائے جائیں ۔ یہ قوم ہر سال کروڑوں اربوں روپے دوسروں کی دکانوں پر انڈیلیتی ہے ۔ مگر یہ نہیں کر سکتی کہ خود اپنی تجارتیں قائم کرے ۔ اس ایک طرفہ گردش دولت کا معاملہ یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ اب ہمارے تمام اخبارات ، تمام چندہ وصول کرنے والے ادارے تمام دینی و ملی اجتماعات نادانستہ طور پر گو یا اغیار کی اقتصادی ایجنسی بن گئے ہیں۔ کیوں کہ مختلف طریقوں سے قوم کی جیب سے جو پیسہ وہ جمع کرتے ہیں وہ سب بالآخر دوسروں کی جیب میں پہنچ جاتا ہے ۔ ظہر کی نماز ہم نے گلپاڑہ میں ادا کی ۔ یہاں مجھے ایک بزرگ کی قبر کے بارے میں بتایا گیا جن کا انتقال تقریباً سو سال پہلے ہوا ہے ۔ ایک روز انھوں نے اپنے مریدوں سے کہا کہ میرا وقت آگیا ہے ۔ اب میرے لیے قبر رکھو دو اور کفن کا انتظام کرو ۔ جب سب کچھ ہو گیا تو حاضرین سے السلام علیکم کہا اور چار پائی پر لیٹ کر اپنے اوپر کپڑا ڈھک لیا ۔ لوگوں نے دیکھا تو روح عالم بالا کو پرواز کر چکی تھی ۔ یہ بھی بزرگی کا کیسا عجیب تصور ہے کہ ہم نے اپنی دور رس نگاہ میں پیداکیں جو چاند سورج کے پرے عالم بالا کے نوشتوں کو پڑھ سکتی تھیں ۔ مگر انھیں اس کی خبر نہ ہوسکی کہ جس دنیا میں وہ ہمیں اس کے اندر کتنی تبدیلیاں ہوئی ہیں اور جدید تبدیلیوں کے لحاظ سے قوم کو کس منہج پر تیار کرنا چاہیے ۔ گلپا ڑہ میں ظہر کی نماز کے لیے وضو کر رہا تھا کہ ایک نوجوان میرے سامنے آکھڑا ہوا ۔ ٹوٹی ہوئی سائیکل ایک چادر تہمد کی جگہ پہنے ہوئے اور دوسری چادر پھٹے ہوئے کرتے کے اوپر لپیٹے ہوئے سر پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader