Urdu book · میوات کا سفر

گیارھواں سفر

Urdu book, p. 153

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈالے ہوئے ۔ چہرہ چیچک کے نشانات سے داغدار ۔ اس نے میرے ہاتھ میں ایک خط دیا۔ یہ مدرسہ میل کھیڑا کے صدر مدرس کا دعوت نامہ تھا کہ ایک دن میں میل کھیڑا میں گزاروں ۔ " آپ کی ایک آنکھ کیسے جاتی رہی ، " میں نے نووار د کو دیکھ کر پوچھا ۔ " سیڈ سے " ( یہاں چیچک کو سیڈ کہتے ہیں ) " آپ طالب علم ہیں " " جی ہاں " " کیا پڑھتے ہیں " " میزان منشعب " یہ مدرسہ اسلامیہ میل کھیڑا کے طالب علم عبد الحمید ( ۱۸ ) تھے ۔ ۴ فروری کی دوپہر ہم نے اس مدرسہ میں گزاری ۔ اس مدرسہ میں پچھلے سال ہندی کا درجہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ اس بنا پر اس کو کہا جاتا ہے کہ " یہ تو دنیا داروں کا مدرسہ ہے ، " اسی طرح یہاں طلبہ کے لیے والی بال کا انتظام ہے اس کے لیے بھی انہیں سننا پڑتا ہے کہ " دنیا کے کھیل کھیلتے ہیں ۔ یہ کیسا مدرسہ ہے ۔ “ سمجھ میں نہیں آتا کہ جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں ان کا تصورِ دین کیا ہے ۔ وہ مسلمانوں کو کس کام کے لیے تیار کرنا چاہتے ہیں اور انہیں کہاں لے جانا چاہتے ہیں ۔ مٹی کی دیواروں پر چھپر کی چھت ظاہر کررہی تھی کہ اس مدرسہ کے وسائل و ذرائع زیادہ نہیں ، مگر اس بے سرو سامانی کے باوجود صفائی ستھرائی اور ہر چیز مناسب جگہ پر رکھنے کا اہتمام بتا رہا تھا کہ ان کے اندر کام کرنے کا سلیقہ ہے ۔ اس مدرسہ کے لوگ اپنے یہاں صنعتی شعبہ بھی کھولنا چاہتے ہیں ۔ " ہماری قوم توجی " میواتی صدر مدرس نے کہا ، " سب کی سب سودی قرضوں میں پھنسی ہوئی ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ سودی قرضوں پر اٹھنے والی قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی ۔ اس لیے ہم اپنے یہاں صنعتی شعبے کھولنا چاہتے ہیں اور قوم کے اندر صنعتی و تجارتی مزاج پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ قوم جو زمیندارہ کے سوا کچھ اور نہیں سوچتی ، وہ معیشت کے دوسرے ذرائع کو اپنائے اور سودی قرضوں کے جال سے نجات حاصل ہو ۔“ یہاں ایک شخص سے ملاقات ہوئی ۔ یہ حسن خاں ( پیرولی ، ۴۰ ) تھے ۔ نہایت سیدھے ، ہر مفید بات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page