Urdu book · میوات کا سفر

گیارھواں سفر

Urdu book, p. 154

By Maulana Wahiduddin Khan

ماننے کے لیے تیار۔ میرا خیال ہے کہ میوؤں کا اصل مزاج یہی ہے، مگر غلط رہنمائی نے ان کو بگاڑ دیا ہے۔ مگر الاجاتے ہوئے راستہ میں ایک بوڑھی مسلمان عورت (میونی) ملی۔ اس کے ساتھ ایک 4 سالہ بچی تھی ۔ " تم کہاں رہو ملاّجی ، " عورت نے کہا " یہ چھوپری کا کنکس دے دو۔ رو سے بہت بھاری ہے ۔ ( مولوی صاحب تم کہاں کے رہنے والے ہو ، اس لڑکی کو نقش دے دو ۔ یہ بہت روتی ہے ) میں نے دیکھا تو چھوٹی سی بچی کے دونوں کان سات سات بالیوں سے بوجھل ہو رہے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بطور سزا کانوں کو چھید کر ان میں بوجھ لٹکا دیا گیا ہو۔ آنکھیں بالکل سفید ہو رہی تھیں جو اس بات کی علامت تھی کہ جسم میں خطرناک حد تک خون کی کمی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ میو قوم (بلکہ ساری مسلم قوم ) کی سب سے بڑی ٹریجیڈی یہ ہے کہ اس کو جاہل رکھا گیا اس جہالت کا نتیجہ ہے کہ وہ یا تو نقش تعویذ والے مذہب کی طرف دوڑتی ہے یا ظاہر فریب جذباتی نعروں کی طرف۔ اس سے آگے کوئی گہری بات وہ سوچ ہی نہیں سکتی۔ مگر الا کی آبادی ڈیڑھ سو گھروں پر مشتمل ہے۔ میں باہر کھیتوں کی طرف نکلا۔ ہر طرف سرسوں کے کھیت نظر آ رہے تھے۔ یہاں کی زمین اچھی ہے۔ مگر امساں فصل بہت خراب ہو گئی۔ اندازہ ہے کہ صرف چوتھائی فصل حاصل ہوگی۔ یعنی بیگہ میں اگر دس من ہوتی تو صرف ڈھائی من ہوگی۔ " چھیا ایک ٹرؤسو جناور ہے وہ نے شکھا دیئے " ، ایک میونے کہا جو میرے قریب اپنی ڈاڑھی کے بالوں پر لاٹھی ٹکائے ہوئے کھڑا تھا۔ " دوا نہیں چھڑکتے " آپ لوگ " میں نے کہا۔ " دوا پھوا تو نا چھڑکي " یہ علاقہ سرسوں کی فصل کے لیے خاص ہے، مگر اس سال پورے علاقہ میں سرسوں کی فصل تباہ ہوگئی ہے گورنمنٹ نے ہیلی کاپٹر بھیجا تھا تاکہ دوا چھڑکے۔ مگر اس کا آنا بھی کچھ سود مند نہیں ہوا۔ کیوں کہ ایک شخص کے بقول : گورنمنٹ کا حال تو یہ ہے کہ آگ لگے چھ مہینہ پہلے، اور سرکار اس کو بجھا دے چھ مہینہ بعد۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page