Urdu book · میوات کا سفر

گیارھواں سفر

Urdu book, p. 155

By Maulana Wahiduddin Khan

حاجی مل خان (گلپارہ) نے بتایا کہ قصبہ نگر کے پاس ایک گاؤں ہے دھن سنگھ کا نگلا۔ وہاں من پھول خاں نے ہر وقت توجہ کی اور پانچ سو روپے کی دو اینیں خرید کر کئی بار اپنے کھیتوں پر چھڑکاؤ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انھوں نے پچاس بیگھہ کی سرسوں بچائی۔ ان کا خیال ہے کہ ان کے یہاں ۱۰ - ۱۲ من بیگھہ کی پیداوار ہوگی یا اس سے زیادہ۔ مگر الامیں رات کو نمازِ عشا کے بعد مسجد میں میں نے ایک تقریر کی جس میں دین کے تقاضے بیان کیے۔ اگلے دن صبح سویرے رسول پور گئے۔ فضا کے اوپر کہرا چھایا ہوا تھا جس میں مزید اضافہ اس دھوئیں سے ہورہا تھا جو جگہ جگہ " پور " (آگ) کسے جلنے کی وجہ سے اٹھ رہا تھا گھروں سے چکی چلنے کی آوازیں عورتوں کی صبح کی پہلی مصروفیت کا اعلان کر رہی تھیں ۔ اور مرد نمازِ فجر سے فارغ ہو کر پور کے کنارے بیٹھے ہوئے حقہ پی رہے تھے ۔ " یہاں کوئی مدرسہ ہے " میں نے گاؤں کے پیش امام سے پوچھا۔ " ہاں ایک مکتب ہے " " کیا پڑھائی ہوتی ہے اس میں " " کلام پاک، اردو " " اسکول بھی کوئی ہے " " نا، اکثر کرکے یہاں ہندی پر زور نا دیوے کوئی"، بس اردو، کلام پاک پڑھیں ۔ جھمجو خاں کے دروازے پر ایک درجن بیل بندھے ہوئے تھے، سب کے سب دُبلے نظر آرہے تھے ۔ " یہ بیل اتنے دُبلے کیوں ہیں " " چارہ کی کمی سے " " وہ کیسے " " ایک جھگڑا ہو گیا ہمارا آپس میں۔ اس میں ہم کمزور ہو گئے ورنہ پہلے ہمارے بیل ایسے نہ تھے " مزید دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ چار سال پہلے راستہ کے معاملہ پر آپس میں جھگڑا ہوا۔ اس کے بعد کھیت کاٹے گئے ۔ پھر فوجداری ہوئی جس میں ایک شخص قتل ہو گیا اس کے بعد ساڑھے تین سال تک مقدمہ چلتا رہا۔ گھر کے آٹھ قابل کار آدمی حوالہات میں بند رہے جس کی وجہ سے کھیتی کا کام بھی تین سال تک معطل رہا۔ ہائی کورٹ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page