Urdu book · میوات کا سفر

گیارھواں سفر

Urdu book, p. 156

By Maulana Wahiduddin Khan

تک مقدمہ بازی ہوئی ۔ صرف ایک فریق کا پندرہ ہزار خرچ ہو گیا ۔ اب یہ عالم ہے کہ بیلوں کو کھلانے کے لیے دانہ نہیں ایک گھر مقدمہ بازی سے پہلے بنایا تھا ۔ میں نے دیکھا تو پتھر کی دیواروں کے اوپر معمولی چھپر پڑا ہوا ہے کیوں کہ چھت ڈالنے کے لیے پیسہ نہیں ۔ سارا میوات اسی قسم کے لڑائی جھگڑوں میں تباہ ہو رہا ہے اور اس میں دین دار اور داڑھی والے مسلمان بھی ٹھیک اسی طرح شریک ہیں جس طرح غیر دیندار مسلمان (اگر چہ میوات میں غیر دیند ار مسلمان کوئی نہیں) میں وہاں پہنچا تو ایک پرانا ٹرانسٹر بج رہا تھا۔ حاجی مل خاں (گل پاڑہ) نے بتایا کہ ہمارے میو لوگ جاہل ہیں، کوئی بات نہیں پکڑتے۔ ورنہ ریڈیو میں سرکار بڑے کام کی باتیں بتاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ریڈیو نے ایک بار بتایا کہ کل کے دن بالا پڑے گا جس سے فصل کو بہت نقصان ہوگا۔ اس سے بچنے کی آسان ترکیب اس نے یہ بتائی کہ گاؤں کے لوگ اپنے کھیتوں کے کنارے گھاس پھ پوس وغیرہ جمع کر کے شام کو آگ لگا دیں کہ رات بھر کھیتوں کے اوپر دھواں پھیلا رہے ۔ اس سے ان کے کھیتوں پر اوس نہیں پڑے گی اور ان کی فصل پالے سے بچ جائے گی ۔ انھوں نے کہا کہ اس کو بہت سے لوگوں نے سُنا ہوگا لیکن نگر کے پاس دھن سنگھ کا ننگلا والوں نے فورا اس کو پکڑ لیا۔ ان کے یہاں سرسوں کا بہت سا ڈانمٹھل پڑا ہوا تھا۔ انھوں نے اپنے کھیتوں کے چاروں کونوں پر ڈھیر کر کے عشار کے بعد آگ لگا دی۔ رات بھر دھواں کھیتوں پر پھیلا رہا۔ ان کی فصل پالے سے بچ گئی ۔ نو گاؤں ہوتے ہوتے ہونے شام کو ہم مبارک پورہ پہنچے ۔ مجھے بتایا گیا کہ یہاں پانچ مسجدیں ہیں۔ میں نے چل کر تمام مسجدوں کو دیکھا ۔ ایک مسجد جس سے ملی ہوئی تھٹری بھی تھی۔ وہاں تھٹری کو گور دوارہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ اور متصل مسجد کے دروازے بند کر کے اس کے اندر گوردوارہ کا سامان رکھا ہوا ہے ۔ دوسری مسجد میں لڑکیاں اور استانیان نظر آ رہی تھیں۔ معلوم ہوا کہ یہ اب " راجکیہ کنیا پرائمک ویدیا لہ ہے۔ دو اور مسجدیں خالی پڑی ہوئی تھیں ۔ جن میں غلاظت اور کوڑے کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ پانچویں مسجد آباد ہے اور اس میں مدرسہ قائم ہے۔ جہاں باہر کے لڑکے اگر ابتدائی دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ میں اندر داخل ہوا تو ایک شکستہ اوغیر صاف عمارت کے اندر میو بچے موٹی موٹی روٹیاں لیے ہوئے گڑ کے ساتھ کھا رہے تھے ۔ یہ ان کا کھانے کا انٹرول تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page