گیارھواں سفر
Urdu book, p. 157
By Maulana Wahiduddin Khan
ہمارے مدرسوں میں جہاں قوم کے نوجوانوں کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ " وہ دنیا کے کسی کام کے نہ رہیں " ، اگر ان کے اندر وقت کے مطابق اقتصادی مزاج پیدا کیا جاتا اور ان کو دستکاریاں بھی سکھائی جاتیں تو یہ خالی مسجدیں آج دینی مراکز بن سکتی تھیں ۔ وہ یہاں آکر قیام کرتے ۔ مسجد کو آباد کرتے اور یہاں بستی میں کسی دستکاری اور کسی اقتصادی اسکیم کو اختیار کر کے اپنی روزی کماتے مگر ان لوگوں کو اس کے سوا کوئی اور کام نہیں معلوم کہ وہ ایک مدرسہ قائم کر کے چندہ جمع کریں اور پھر دوسرے مدارس کے دشمن بن جائیں ۔ کیوں کہ انہیں اندیشہ ہوتا ہے کہ ان کی چندے کی مارکیٹ پر وہ قبضہ کر لیں گے ۔ مبارک پور کی آبادی تقریباً ڈھائی ہزار ہے۔ یہ اس علاقہ کا تجارتی مرکز ہے ۔ اطراف کی تقریباً بيس بستیوں کے لوگ یہاں سے لین دین کرتے ہیں ۔ ان کا غلہ بھی یہیں کی مارکیٹ میں آکر فروخت ہوتا ہے ۔ " یہاں مسلمان کتنے ہیں " میں نے پوچھا ۔ " کوئی نہیں " پیش امام نے جواب دیا جو باہر سے آکر یہاں کی ایک مسجد آباد کیے ہوئے ہیں " صرف ایک گھر ہے جو گییوں کا جو مندر رجھاڑتا ہے " " اس سے ملاقات ہو سکتی ہے " " رات میں ہو سکتی ہے ۔ مگر دن میں نہیں ۔ کیوں کہ دن میں وہ آٹا مانگنے کے لیے دیہاتوں میں نکل جاتا ہے ۔ یہاں مسلمان بڑی تعداد میں آباد تھے ۔ مگر تقسیم کے ہنگامہ میں وہ یہاں سے چلے گیے ۔ اب شکستہ مسجدیں اور کھنڈر ی صرف ان کی یادگار رہ گیے ہیں ۔ مولوی نصیر الدین صاحب ( زمرہ ضلع گورگاؤں) ایک بار ایک مسجد کو خالی کرانے کے لیے مزید پانچ آدمیوں کے ساتھ گیے تو ان کے الفاظ میں " جھگڑے کی شکل پیدا ہو گئی " اور انھیں ناکام واپس آنا پڑا۔ وہ ملک جو ساری دنیا میں قبضہ غاصبانہ کو ختم کرنے کے لیے اپنے کو خدائی فوجدار سمجھتا ہے، وہ خود اپنے لیے قبضہ غاصبانہ کو عین جائز سمجھتا ہے ۔ رات کو ہم چراونڈا پہونچے۔ یہ معروف معنوں میں کوئی بستی نہیں۔ مشرق و مغرب کے طویل پہاڑی سلسلوں کے درمیان چھ میل چوڑی اور اس سے زیادہ لمبی ایک دنیا ہے جس میں جگہ جگہ چھپر پوش چھوٹے چھوٹے مکانات نظر آتے ہیں۔ کھیت کے مالکوں نے اپنے اپنے کھیت کے ساتھ معمولی رہائش گاہیں بنائی ہیں اور کتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader