Urdu book · میوات کا سفر

گیارھواں سفر

Urdu book, p. 158

By Maulana Wahiduddin Khan

اور مویشیوں کے ساتھ وہاں اپنے کھیتوں میں مشغول رہتے ہیں اور رات کو چھپر کے نیچے سو جاتے ہیں۔ تمدنی سرگرمیوں سے دور اس دنیا میں آدمی اپنے کو قدرت سے قریب محسوس کرتا ہے۔ لہلہاتے ہوئے کھیت جن میں درخت جگہ جگہ سبز پوش سنتری کی طرح کھڑے ہیں۔ پہاڑ کی خاموش دیواریں، سر پر آسمان کے نیلے شامیانے میں تیرتے ہوئے بادل، اور پھر ان سارے مناظر کے درمیان چڑیوں کے چہچہے، یہ سب چیزیں اس مقام کو قدرت کی آفاقی شان کا نمونہ بنا رہی ہیں۔ تیتروں کی غوں غوں کی آوازیں مسلسل اس طرح آرہی تھیں جیسے دہ قدرت کی طرف سے کسی خاص اعلان کے لیے مقرر کیے گئے ہوں ۔ زری علاقوں میں زندگی کی یہ صورت حال مجھے انتہائی فطری اور کار آمد نظر آتی ہے کہ ہر خاندان کے تمام کھیت ایک جگہ ہوں، وہیں اس کا مکان اور مویشی ہوں اور اس کی رہائش اور اس کی زراعت دونوں ایک اکائی کی صورت اختیار کر گئے ہوں۔ اس طریقہ زندگی کے بے شمار زرعی فائدے ہیں۔ خود پیداوار بڑھانے کی یہ سب سے زیادہ کار آمد فطری صورت ہے۔ مگر عمومی طور پر عمل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ اس طرح متفرق طور پر بسے ہوئے خاندان اپنے آپ کو چوروں اور ڈاکوؤں سے محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ یہ ملک جو ساری دنیا میں امن و انصاف کا ذمہ دار ہے، خود اپنے اندر وہ اس کی ضمانت نہیں دے سکتا کہ ان کسانوں کی جان و مال محفوظ رہے گی ۔ ننگلہ چرا اونڈہا ہم لوگ رات کو دیر سے پہونچے، رات کا کھانا کچی دیواروں کے ایک چھپر پوش کمرہ میں کھایا گیا جس میں ایک طرف عورتیں کھانا تیار کرنے میں مشغول تھیں اور دوسری طرف ہمارے لیے چادر کا دستر خوان بچھا ہوا تھا۔ سارے میوات کا یہی حال ہے۔ یہاں مروجہ پردہ کہیں نظر نہیں آتا۔ صبح کو اٹھنے میں کچھ دیر ہو گئی۔ چھپر کے اوپر ایک سوراخ سے آنے والے اجلے نے بتایا کہ سویرا ہو چکا ہے۔ میں جلدی سے اٹھا فراغت کی، وضو کیا اور باہر پڑی ہوئی ایک چار پائی پر بیٹھ کر پاؤں دھونے لگا۔ گھر کے مرد ابھی نہیں اٹھے تھے۔ اتنے میں گھر کی خاتون پیچھے سے آئیں : ”یہ سے پوچھو لو مولانا صاحب “ انھوں نے تولیہ دیتے ہوئے کہا۔ ہمارے علاقہ میں یہ بات عجیب سی معلوم ہوگی۔ مگر یہاں کے لیے یہ کوئی عجیب چیز نہیں ۔ میوات کے رواج ات اکثر غیر اسلامی ہیں۔ مگر میرا خیال ہے کہ یہاں کی کم از کم ایک چیز ضرور ایسی ہے جو ہمارے علاقوں کے مقابلہ میں اسلام سے زیادہ قریب تر ہے اور وہ یہاں کا ” پر دہ “ ہے۔ یہاں کی بے پردہ عورتیں حقیقی معنوں میں اس سے کہیں زیادہ با پردہ ہوتی ہیں جو ہمارے علاقے کے دین دار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page