Urdu book · میوات کا سفر

گیارھواں سفر

Urdu book, p. 159

By Maulana Wahiduddin Khan

گھرانوں میں پایا جاتا ہے ۔ دن بھر موٹے کاموں میں مشغول رہنے والی عورتیں جن کو ساری زندگی میں کبھی موقع نہیں آتا کہ وہ اپنے ہاتھ منہ کو صابن سے دھوئیں ( میک اپ کا تو کوئی سوال ہی نہیں جس کا اہتمام ہمارے دیندار گھرانوں میں بھی اتنا ہی ہوتا ہے جتنا بے دین گھرانوں میں)، سارا جسم نہایت معمولی اور ضرورت سے زیادہ ڈھیلے کپڑوں سے ڈھکا ہوا، قدرتی اور مصنوعی ہر قسم کی جاذبیت سے خالی یہ عورتیں مردوں سے الگ اپنے اپنے کاموں میں اس طرح مشغول رہتی ہیں کہ وہاں نہ بے پردگی کا کوئی اندیشہ ہے اور نہ کسی فتنہ کا۔ یہاں کی دنیا میں زندگی اس قدر سادہ اور عملی ہے کہ مرد و زن کا فرق اور اس قسم کے تعلقات غالباً ایک خشک اور غیر جذباتی ذمہ داری کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔ شاید یہی وہ عورتیں ہیں جن کے لیے فقہا ر نے وجہ اور کفین کو پردہ سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ عظیم خاں یئواڑہ (۳۵) سے میں نے پوچھا۔ میو لوگ دوسری قوموں سے پیچھے کیوں ہیں۔ انھوں نے کہا میرا تو خیال ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ تعلیم میں پیچھے ہیں۔ پھر وہ تعلیم کی طرف شوق کیوں نہیں کرتے اس کے جواب میں انھوں نے اپنا ایک قصہ بتایا۔ وہ گھا سو لئی گئے ۔ " تمھارا بچہ جو آوارہ پھر رہا ہے " انھوں نے وہاں کے لوگوں سے کہا " اس کو اسکول میں کیوں نہیں بٹھلتے " جواب ملا : " ہم بھی پڑھ جائیں اور ہمارے لڑکے بھی پڑھ جائیں تو یہ ڈھور کون چرائے اور زمیندارہ کون کرے ؟ " میں نے پوچھا، دوسری قومیں جو پڑھ رہی ہیں، ان کا زمیندارہ کا کام کیا بگڑ گیا ہے ۔ " خوب بڑھیا بن رہے ہو جی " عظیم خاں نے جواب دیا ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ میو لوگ زمانہ سے کس قدر پیچھے ہیں۔ زمانہ کے مطابق چلنا تو درکنار، وہ ابھی جانتے بھی نہیں کہ زمانہ کیا ہے اور آج کے حالات کس قسم کے عمل کا تقاضا کر رہے ہیں ۔ یہ صرف میو قوم کی بات نہیں بلکہ تمام مسلمان کسی نہ کسی طور پر اس میں مبتلا ہیں۔ اور اس کی وجہ وہ غلط قسم کے لیڈر اور رہنما ہیں جنھوں نے مسلمانوں کو ایک ایسے قناعت اور توکل کا سبق دیا جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اور اسلام کی حقیقی تعلیمات میں جس کا کوئی ماخذ پیش نہیں کیا جا سکتا ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page