Urdu book · میوات کا سفر

پہلا سفر

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

کانگریس کے طرز پر جو لوگ سوچتے تھے وہ تقسیم کے بعد بھی ملک میں جھے رہے ۔ اس میں شک نہیں کہ تقسیم کے فوراً بعد مسلمانوں کے سامنے بہت سے شدید مسائل آئے جن کا سلسلہ بعد کو بھی جاری رہا۔ مگر مجموعی طور پر دیکھیے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ وقتی طوفان تھا جو بعض تاریخی حماقتوں کے نتیجہ میں پیدا ہوا تھا اور زندگی جیسے جیسے تھمتی گئی لوگوں کے اس احساس میں اضافہ ہوتا چلا گیا کہ یہاں بھی مسلمانوں کے لیے زندگی ممکن ہے۔ جن مقامات سے مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے ۔ اگر وہ وہاں جھے ہوتے ، یا پاکستان جانے کے بجائے عارضی نقل مقام سے اس مشکل کو حل کرنے کی کوشش کی ہوتی تو آج نسبتاً اعتدال پیدا ہونے کے بعد کتنے مقامات دوبارہ اسی طرح مسلم مراکز بن چکے ہوتے جس طرح وہ تقسیم سے پہلے مسلم مرکز بنے ہوئے تھے۔ موضع سونکھ کا چودھری امید خاں نمبردار جوان چند لوگوں میں سے ہے جو دوبارہ اپنے وطن واپس آکر اپنے مکان اور زمین کے مالک بن چکے ہیں وہ اس بات کی علامت ہے کہ یہی امکان پوری مسلم آبادی کے لیے موجود تھا بشرطیکہ وہ بھگڈڑ کا شکار ہو کر مستقل ترک وطن نہ کرگئے ہوتے ۔ چودھری امید خاں پندرہ ایکڑ زمین کا مالک ہے ۔ مگر جب کہ اس کے پڑوس میں صرف ایک پنجابی غیر مسلم نو ٹیوب ویل لگوارہا ہے، وہ ایک ٹیوب ویل بھی نہ لگوا سکا۔ "آپ کیوں نہیں ٹیوب ویل لگواتے ؟ میں نے نمبردار سے پوچھا۔ " ابھی ذرا سوچ رہے ہیں کہ اس میں کتنا فائدہ ہے"۔ اس نے جواب دیا۔ اس سے اندازہ کیجیے کہ جدید زراعتی شعور میں مسلمان کسان کتنا پیچھے ہے ، اس کی سمجھ میں ابھی یہی بات نہیں آئی کہ ٹیوب ویل لگوانے میں فائدہ ہے یا نقصان۔ وہ صرف اس وقت سمجھے گا جب دوسرے کے ٹیوب ویل کام کر کے ان کی زمینیں دوگنی چوگنی پیداوار اگلنے لگیں گی۔ مگر اس وقت کا سمجھنا زیادہ کار آمد نہیں ہوگا۔ کیونکہ ایک تو وہ غیر مسلم کسانوں سے پچھڑ چکے ہوں گے ۔ دوسرے اس وقت بجلی ملنا بھی اتنا آسان نہ ہوگا جتنا آسان آج ابتدائی مرحلے میں حکومت نے اسے بنا رکھا ہے ۔ قصبہ نروج میں مجھے ایک کپڑے کی دوکان پر لے جایا گیا۔ اس کے مالک ایک باریش مسلمان ہیں۔ جن کا نام مولانا جمیل احمد صاحب درگو والدہ ہے۔ انہوں نے عربی درسگاہ سے فراغت کے بعد سلائی کا کام شروع کیا۔ شروع میں بچوں کی معمولی ٹوپیاں بناتے تھے ، اس سے چند سو روپے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page