گیارھواں سفر
Urdu book, p. 160
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک بار جب ملک میں بڑے زور و شور سے یہ غلغلہ بلند ہو اٹھا کہ یہاں ایٹم بم بنایا جائے ۔ کچھ بڑے لوگوں نے کہا کہ ہم بھوکے رہے رہیں گے ، مگر ایٹم بم بنائیں گے ۔ اس کے جواب میں جے پرکاش نرائن نے ایک بیان دیا تھا جس میں انھوں نے کہا : " بھوکے رہ کر ایٹم بم بنانے کی بات وہی لوگ کرتے ہیں جن کے پیٹ بھرے ہوئے ہیں ۔" یہی بات ہمارے بہت سے رہنماؤں پر بھی صادق آتی ہے ۔ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ہم دینی مدارس میں ایسے انسان پیدا کرنا چاہتے ہیں جو دنیا کے کسی کام کے نہ رہیں ، جو یہ کہتے ہیں کہ دین کو دنیا کمانے سے کیا مطلب ، جو یہ سبق دیتے ہیں کہ بس اللہ اللہ کرو ، باقی سب کام اپنے آپ ہو جائے گا ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اپنے تمام مسائل حل ہو چکے ہیں ۔ جنھیں معلوم ہے کہ ان کے پھٹے ہوئے ٹاٹ مخملی گدوں سے بھی زیادہ سیم و زر کھینچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ جن کے چاروں گوشے اس طرح مکمل ہیں کہ ایک لمحہ کے لیے بھی انھیں اندیشہ نہیں کہ ان کی کوئی حاجت اٹکی رہ سکتی ہے اور جہاں کہیں ذرا سا بھی شبہ ہوتا ہے کہ ان کو یا ان کے کسی رشتہ دار کو " مسئلہ " پیش آ سکتا ہے ۔ وہاں وہ عام دنیا داروں سے بھی زیادہ دنیا دار بن جاتے ہیں ۔ یہ ہیں وہ لوگ جو مسلمانوں کو سبق دے رہے ہیں کہ بس دین دار بن جاؤ ۔ دنیا کے لیے تمھیں کچھ کرنے یا سیکھنے کی ضرورت نہیں لطف کی بات یہ ہے کہ اگر ان سے پوچھیے کہ دین کا یہ راہبانہ تصور تم نے کہاں سے اخذ کیا ہے تو ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہ ہوگا ۔ یہ سفر مندرجہ ذیل اصحاب کی ہمراہی میں ہوا ۔ ۱۔ عبد الرحیم صاحب ، بڑبیڈ ، ضلع گوڑ گاؤں ۔ ۲۔ عبد الغفار خاں صاحب ، ننگلہ چپراونڈا ، ڈاک خانہ پائنا ، ضلع الور ۔ ۳۔ محمد یوسف صاحب حسن پور بلونڈا ، ڈاک خانہ فیروز پور ، گوڑ گاؤں ۔ ۴۔ اشرف خاں صاحب ، حسن پور بلونڈا ، فیروز پور ، گوڑ گاؤں ۔ ۵۔ صوفی شیر خاں صاحب ۔ ککرالا ۔ ڈاک خانہ گلپاڑہ ، ضلع بھرت پور ۔ ۶۔ فخرالدین صاحب ۔ مبارک پور ، الور ۔ ۵ فروری کی شام کو میں دہلی واپس آگیا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader