Urdu book · میوات کا سفر

بارھواں سفر

Urdu book, p. 161

By Maulana Wahiduddin Khan

بارھواں سفر دلی کے قریب " نوح " ایک تاریخی قصبہ ہے جو ہر یانہ کے ضلع گوجڑ گاؤں میں واقع ہے ۔ ۱۴ اگست ۱۹۷۴ء کو چند گھنٹے کے لئے میرا یہاں آنا ہوا۔ یہاں حضرت شیخ الاسلام مولاناسید حسین احمد مدنیؒ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا نیاز محمد صاحب رہتے ہیں۔ ان کا مدرسہ قاسم العلوم ( قائم شده ۱۹۶۵ء ) میں نے پہلی بار تین سال پہلے دیکھا تھا ، اس وقت یہ مدرسہ صرف ایک چھوٹی سی خستہ مسجد اور ایک معمولی چھپر پر مشتمل تھا۔ اب خدا کے فضل سے مسجد سے متصل اس کی عمارت بن گئی ہے اور مدرسہ ترقی پر ہے ۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ۔ مولانا نیاز محمد صاحب ، حضرت مولانا الیاس صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے رفقار میں سے رہے ہیں ۔ آپ نے بتایا کہ حضرت مولانا فرمایا کرتے تھے کہ میں دو چیزوں کو زندہ کرنا چاہتا ہوں ــــــــــ طرز اور ترتیب ۔ طرز سے مراد وہ منہاجِ نبوت ہے جس پر آنحضور نے اسلامی دعوت چلائی اور ترتیب سے مراد یہ ہے کہ الاہم فالاہم کے اصول کے مطابق دین کے اجزا ر کو بتدریج زندہ و قائم کیا جائے ۔ طرز کی مثال یہ ہے کہ اپنے قدموں کو " گرد آلود " کر کے لوگوں تک پہنچنا اور نہ بانی طور پر دین کا پیغام لوگوں تک پہنچانا ۔ ترتیب کی مثال یہ ہے کہ دین میں کلمہ کو اولین اہمیت کا حامل ہے ۔ اس لیے اولین مرحلہ یہ درکار ہے کہ کلمہ کو لوگوں کے ذہن نشین کرایا جائے ۔ روزنامہ الجمعیۃ ۱۶ اگست ۱۹۷۲ء میں ناظرین نے ایک خبر پڑھی ہوگی ــــــــــــ " با عزت بری ہو گیے " خبریہ سرخی ۔ " مولانا محمد یوسف صاحب ( حسن پور بلوئڈا ) اور ان کے ساتھی مولانا فتح محمد صاحب عدالت فوجداری گوجڑ گاؤں سے ۷ اگست کو با عزت بری ہو گیے ۔ ان حضرات پر بوجہ عداوت ایک شخص نے دفعہ ۳۲۵/۵۰ کے تحت مقدمہ دائر کیا تھا۔ بفضلہ تعالیٰ دونوں حضرات عدالت سے با عزت بری ہو گیے ۔" اتفاق سے ۶ اگست کو مجھے بلوئڈا ( ضلع گوجڑ گاؤں ) جانا ہوا اور وہاں لوگوں سے ملاقات ہوئی ، جو حالات معلوم ہوئے اس میں بڑی نصیحت ہے۔ یہ حالات آج تقریباً تمام دیہاتوں میں ہماری زندگی کا المناک جزو بن چکے ہیں ۔ اگر مسلمان صرف اسی ایک چیز کی اصلاح کر لیں تو ان کی طاقت میں سوگنا اضافہ ہو جائے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page