بارھواں سفر
Urdu book, p. 162
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۸ اپریل ۱۹۷۰ء کا واقعہ ہے۔ ایک شخص نے گاؤں کے ایک آدمی کو کسی ذاتی رنجش کی بنا پر لاٹھیوں سے مارا۔ رات کا وقت تھا۔ زخم خوردہ شخص راستہ میں نڈھال پڑا ہوا تھا۔ کچھ لوگوں کو معلوم ہوا تو اُس کو اُٹھا کر گاؤں میں لائے۔ اور پھر رات ہی کو تھانہ فیروزپور جھمر کا لے گئے تاکہ پولیس میں رپورٹ درج کرا دیں۔ مگر اس آدمی نے احسان کا بدلہ یہ دیا کہ مدد کرنے والوں اور اُٹھا کر لے جانے والوں ہی کو تھانہ میں لکھوا دیا کہ انھوں نے ہم کو مارا ہے۔ دو سال کے مقدمہ کے بعد عدالت نے ماخوذین کو مکمل طور پر بری قرار دیا۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ یہ الزام سراسر غلط تھا۔ مگر اس میں نقصان کتنا ہوا۔ ۱۸ اپریل ۱۹۷۰ء کو مقدمہ شروع ہوا تھا، اور ۲ اگست ۱۹۷۲ء کو ختم ہوا۔ اس مدت میں ۶۳ پیشیاں ہوئیں اور ماخوذین کے پانچ ہزار روپے خرچ ہو گئے (مدعی کا صرف اس کے علاوہ ہے) یہی نہیں۔ جب یہ قصہ شروع ہوا، تو یہاں کے رواج کے مطابق برادری کی پنچایت ہوئی اور ماخوذین پر "ڈنڈ" لگایا گیا جس کی مقدار ۵۱۰۱ روپے تھی۔ کہا گیا کہ اگر تم عدالت کے مجرم ثابت ہوئے تو روپیہ ضبط کر لیا جائے گا، اور اگر بری قرار پائے تو واپس کر دیا جائے گا۔ یہاں کا برادری کا رواج یہی ہے۔ مگر یہ پنچائیتوں کے چودھری عام طور پر مدعا علیہ پر "ڈنڈ" لگانے کے بعد مدعی سے مل جاتے ہیں تاکہ مدعا علیہ کو مجرم ثابت کر کے جمع شدہ رقم کو ہضم کرنے کا بہانہ نہ پیدا کر سکیں ۔ مذکورہ بالا واقعہ میں مدعا علیہم اگر چہ عدالت سے بری الذمہ ہو گئے، مگر ان کا جمع شدہ روپیہ چودھریوں نے کچھ مدعی کو مقدمہ کے لئے دیا تھا اور بقیہ خود کھا گئے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عدالت سے بری الذمہ ہونے کے بعد بھی ان کی رقم اُنہیں واپس نہ مل سکی۔ اس طرح ایک مقدمہ میں صرف ایک فریق کا دس ہزار روپیہ نقد، ۶۲ پیشیوں میں تقریباً چار مہینے کا وقت ضائع ہوا، اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ مسلمانوں کے اندر باہم نفرت اور عداوت بھڑک اٹھی اور ایسا انتشار پیدا ہوا جو نسلوں تک ختم ہونے والا نہیں۔ یہی صورت آج تمام دیہاتوں کی ہو رہی ہے۔ ہر جگہ باہم لایعنی قسم کے مقدمے لڑے جا رہے ہیں۔ جنھوں نے نہ صرف مسلمانوں کی اقتصادیات کو برباد کر رکھا ہے بلکہ اُنھیں اس طرح پھاڑ دیا ہے کہ کہیں بھی ان کی کوئی طاقت باقی نہیں رہی ہے۔ میل کھیرلا ضلع بھر تپور، دتی سے ندوتی جانے والی سڑک پر دتی سے ۳۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader