بارھواں سفر
Urdu book, p. 163
By Maulana Wahiduddin Khan
واقع ہے۔ یہاں سڑک کے کنارے کھلے میدان میں ایک مدرسہ میں جو پانچ سال پہلے قائم ہوا تھا، مجھے ایک شب گزارنے کا موقع ملا۔ چھپروں کی یہ بستی نظم اور سلیقہ کا ایک اچھا نمونہ ہے۔ روایتی دینی تعلیم کے علاوہ دیگر چیزوں کا ذوق بھی پایا جاتا ہے۔ مثلاً جسمانی ورزش، تقریر و تحریر، ہندی، حساب وغیرہ۔ مختلف مدارس اور دینی اداروں کا قریب سے مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہماری دینی دلی سرگرمیاں عام طور پر بس ایک کام تک محدود ہیں۔ اور وہ ہے ”تحفظ“۔ حتیٰ کہ تحفظ کا یہ ذہن سیاست تک بھی پہنچ گیا ہے۔ دینی، تعلیمی، سیاسی، معاشی، غرض جس پہلو کو دیکھئے، ہر جگہ ہم تحفظ ڈھونڈتے ہوئے نظر آئیں گے۔ یقیناً تحفظ کسی گروہ کی ناگزیر ضرورت ہے۔ مگر صرف تحفظ ہمارے لئے زندگی کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ زمانہ ایک سیلاب کی طرح چاروں طرف سے امڈا چلا آ رہا ہے۔ وہ ہماری ملی عمارت کی دیواروں سے مسلسل ٹکرا رہا ہے۔ چاروں طرف سے ہم اس زمانی سیلاب کے نرغہ میں ہیں۔ ایسی صورت میں یہ نا ممکن ہے کہ ہم صرف بچاؤ کی تدابیر سے سیلاب کا مقابلہ کر سکیں۔ سیلاب کا مقابلہ صرف جوابی سیلاب سے کیا جاسکتا ہے۔ مدارس کے نصاب میں دینیات کے ساتھ معقولات کا جوڑ اسی غرض سے لگایا گیا تھا۔ اول الذکر کا مقصد علم دین کو محفوظ رکھ کر اس کا تسلسل باقی رکھنا ہے۔ اور ثانی الذکر کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو عقلی اور فکری طور پر اس کے لئے تیار کیا جائے کہ وہ اسلام کے داعی بنیں اور اقوام عالم کے سامنے دین حق کے علم بردار بن کر کھڑے ہوں۔ دہلی سے الور جانے والی شاہراہ پر ۴۰ میل چلنے کے بعد ایک سڑک مغربی سمت میں نکلتی ہے، یہاں بورڈ پر حسب ذیل الفاظ لکھے ہوئے ہیں : نوح ــــــــــ تا وژو روڈ اس نو تعمیر سڑک پر دو میل چلیے تو آپ ایک ایسی جگہ پہنچیں گے جہاں شمالاً جنوباً پہاڑ کی پھیلی ہوئی دیواریں کھڑی ہیں۔ آپ کی سڑک ان پہاڑوں کے اوپر بل کھاتی ہوئی دوسری طرف نکل جاتی ہے۔ یہاں پہاڑ سے متصل ایک قلعہ نما عمارت ہے، جس کے کھنڈرات میں ایک چھوٹا سا مدرسہ قائم ہے۔ یہ حضرت خواجہ موسیٰ (وفات ۳۳۷ھ) کی درگاہ ہے جو حضرت نظام الدین محبوب الہی کے خلیفہ تھے۔ یہ مقام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader