بارھواں سفر
Urdu book, p. 164
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان کے سب سے چھوٹے مگر سب سے زیادہ زندہ صوبہ ہریانہ کے ضلع گڑگاؤں میں واقع ہے۔ آپ کے مزار پر حسب ذیل قطعہ تاریخ کندہ ہے : موسیٰ که بود یم عنایت بود است به پلہ ہدایت تاریخ وفات او خرد گفت کو صاحب سلسلہ ولایت ۷۳۳ ھ اگست کی ۱۶ تاریخ ہے اور ۱۰/۱ بجے کا وقت ہے۔ یہاں میں پہاڑی پر چڑھ کر ایک درخت کے سایہ میں بیٹھا ہوا ہوں ۔ میرے سامنے درگاہ کی وسیع و عریض عمارت درختوں کے سایہ میں کھڑی ہوئی ماضی کی عظمت کی داستان بتا رہی ہے۔ اس کے آگے حد نظر تک کھیتوں کے قطعات ہیں جن میں جگہ جگہ درخت ہری چھتری کی مانند کھڑے ہوئے ہیں۔ اس عظیم درگاہ کو دیکھ کر خیال آیا کہ یہ جگہ شاید اس دعوتی کام کو کرنے کے لئے موزوں ترین ہے جس کا خواب حضرت مدنیؒ نے اپنی زندگی کے آخری دور میں دیکھا تھا۔ آپ کا خیال تھا کہ اب ہمیں اسلامی دعوت کا کام پوری قوت کے ساتھ کرنا چاہئے۔ حضرت مدنی کی مدرس کی تقریر (۲۶ جولائی ۱۹۵۷ء) اس سے پہلے الجمعیۃ ویکلی، ۱۰ اپریل، ۱۹۱۴ میں شائع ہو چکی ہے اور آپ کے ان خیالات کی بخوبی نمائندگی کرتی ہے۔ دعوتی کام کی اہمیت کی بنا پر جمعیۃ علماء ہند کے نئے دستور میں باقاعدہ اس کو ایک دفعہ کے تحت اغراض و مقاصد میں شامل کر دیا گیا ہے۔ اور حال میں جمعیۃ علمائے ہند نے ایک تجویز کے ذریعے یہ طے کیا کہ برادران وطن کے سامنے تعلیمات اسلامی کی نشر و اشاعت کے لئے خصوصی کوشش کی جائے اور اس کے لئے ”مجلس تعارفِ اسلام“ کے نام سے ایک باقاعدہ شعبہ بھی وجود میں آچکا ہے۔ ان تمام چیزوں کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ آزادی کے بعد جو انقلاب آیا، اس میں ہمارے رہنماؤں نے دیکھا کہ ماضی کی توقعات کے برعکس یہ ہوا ہے کہ ہم ہر اعتبار سے مکمل طور پر زد میں آگئے ہیں۔ فریقی ثانی نے اپنی عددی اکثریت اور تعلیم اور اقتصادیات میں اپنی برتری کی بنا پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader