بارھواں سفر
Urdu book, p. 165
By Maulana Wahiduddin Khan
زندگی کے ہر شعبہ میں ہم کو دفاع کی پوزیشن میں ڈال دیا ہے۔ ایسی حالت میں تحفظ کی ندا ہر اگرچہ ضروری ہیں لیکن صرف تحفظ کی تندبیر ہمارے لئے زندگی کی ضمانت نہیں بن سکتیں۔ ساری دنیا کے مسلمہ اصول کے مطابق ہیں کامیابی حاصل کرنے کے لئے اقدام کا کوئی گوشہ تلاش کرنا ہوگا، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ دفاع کے محاذ پر دباؤ کم ہو اور ہمیں زندگی کے میدان میں قرار واقعی جگہ حاصل ہو سکے۔ یہ اقدام کا گوشہ کون سا ہے۔ یہ نظریات کا گوشہ ہے۔ ہمارے لئے اقدام کی واحد ممکن صورت یہ ہے کہ ہم خدا کے دین کو لے کر اٹھیں جو ہمارے عقیدہ کے مطابق دین فطرت ہے اور جو ساری دنیا کے لئے نجات کا واحد راستہ ہے۔ دین حق کے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کی جدوجہد از روئے عقیدہ ہمارے اوپر فرض ہے مگر موجودہ حالات میں تو وہی ہمارے لئے واحد راہ عمل بھی رہ گئی ہے۔ کیوں کہ یہی وہ گوشہ ہے، جہاں ہم اقدام کی پوزیشن حاصل کر سکتے ہیں۔ دینی اعتبار سے تو پہلے بھی یہی ہمارے لئے واحد راستہ تھا اور اب تو دنیوی اعتبار سے بھی اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ ہمارے لئے باقی نہیں رہا ہے۔ جدید تمدن نے انسان کے لئے جو مسائل پیدا کئے ہیں۔ ان میں سے ایک مسئلہ وہ ہے جس کو ثقافت (Pollution) کا مسئلہ کہتے ہیں۔ مشینوں اور موٹروں کے چلنے سے جو دھواں اور گیسیں نکلتی ہیں انھوں نے بڑے شہروں کی فضا میں آکسیجن کا تناسب بری طرح مجروح کر دیا ہے۔ اور ہوا کو اس قدر آلودہ کر دیا ہے کہ لوگ گہرا سانس لیتے ہوئے ڈرتے ہیں اور چھٹیوں کے موقع پر شہر کے باہر نکل جاتے ہیں تاکہ قدرتی ہوا میں سانس لے سکیں۔ اس صورت حال نے ان مذاہب کی عبادت گاہوں میں ایک نئی کشش پیدا کر دی ہے جو قدیم روایت کے مطابق پہاڑوں اور جنگلوں میں بنائی جاتی رہی ہیں۔ شہری فضا سے دوران عبادت گاہوں میں جدید دنیا کے نوجوان کثرت سے پہنچ رہے ہیں اور وہاں کی قدرتی فضا میں کچھ وقت گزارنا اپنے لئے روحانی اور مادی نفع کا باعث سمجھتے ہیں۔ اس لحاظ سے حضرت موسیٰ کی درگاہ نہایت موزوں مقام پر واقع ہے۔ ایک طرف ددلی (قرآن کے الفاظ میں ام القریٰ) سے قریب ہے۔ دوسرے دہ قدرتی مناظر اور پہاڑی مقامات میں واقع ہے۔ جہاں آدمی پہنچ کر کچھ دیر کے لئے اپنے آپ کو ایک پرسکون روحانی دنیا میں پاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader