پہلا سفر
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
جمع کر کے چھوٹی سی کپڑے کی دکان کھول لی۔ شروع میں سخت مصائب کا سامنا ہوا۔ اب چار سال سے ان کی اچھی خاصی کپڑے کی دوکان بن چکی ہے ۔ ان کی کامیابی کا راز معاملات کی صفائی ہے ۔ " ہمارے ایک ساتھی نے کہا: " انہوں نے لین دین میں سچائی برتی ۔ آٹھوت والے کپڑا ادھار دینے لگے، اس طرح کسی خاص سرمایہ کے بغیر دوکان چل گئی۔ یہی دوکان ان کی معاش کا ذریعہ ہے۔ مگر ان کے اندر علمی ذوق بھی ہے ، مقامی مدرسہ میں ایک گھنٹہ مقامات حریری کا درس دیتے ہیں جس کی کوئی تنخواہ نہیں لیتے، مجھے بتایا گیا کہ اس علاقہ میں یہ واحد شخص ہیں جو اس قسم کی ایک کپڑے کی دوکان کھول کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ یہ سن کر مجھے سخت حیرت ہوئی کیونکہ یہ ایک چھوٹی سی دوکان تھی ۔ اگر اس علاقہ کے مسلمان کاروبار میں اتنے پیچھے ہیں کہ ایسی دوکانیں بھی ان کے پاس نہیں تو سخت حیرت ہے۔ یہ علاقہ طویل مدت سے مختلف قسم کی دینی و سیاسی تحریکوں کا آماجگاہ رہا ہے مگر حیرت ہے کہ کسی نے مسلمانوں کی اس کمزوری کو دور کرنے کی کوشش نہیں کی۔ مولانا جمیل احمد صاحب کا وطن گوالدہ (راجستھان) ہے ۔ ۱۹۷۲ء کے فساد میں وہ وطن چھوڑ کر چلے گئے تھے ۔ تقریباً دو سال باہر رہے اس کے بعد ”پھر بہساؤ‘ تحریک کے تحت دوبارہ جاکر آباد ہوئے ۔ زمین بھی دوبارہ قبضہ میں آگئی۔ وہ کاروبار کے ساتھ انگریزی بھی پڑھ رہے ہیں اور میٹرک کا امتحان دینے والے ہیں ۔ نوح سے ہم قصبہ نگر (ضلع بھر تپورم راجستھان کے لیے روانہ ہوئے ۔ یہاں بس کا ایک واقعہ قابل ذکر ہے۔ میری سیٹ پر ایک بار ئیش میواتی مسلمان بیٹھا ہوا تھا۔ کنڈکٹر نے اس سے کرایہ مانگا تو اس نے ایک روپیہ کا نوٹ نکالا " یہ ٹھیک نہیں ہے دوسرا لاؤ" کنڈکٹر نے یہ کہہ کر نوٹ واپس کر دیا۔ اس کے بعد دیر تک بحث ہوتی رہی۔ کنڈکٹر کا کہنا تھا کہ نوٹ کا نمبر تک پھٹ گیا ہے اس لیے وہ اس کو نہیں لے سکتا۔ اگر نمبر محفوظ ہوتے تو وہ لے سکتا تھا۔ دوسری طرف بار نیش میواتی بار بار کہے جا رہا تھا کہ اس کے پاس اور نہیں ہے۔ کنڈکٹر نے کہا تمہارے پاس اور پیسے نہیں ہیں تو میں کیا کروں میں یہ سب نہیں جانتا۔ یا تو کرایہ کے پیسے لاؤ۔ ورنہ بس روک کر تمہیں انار دوں گا۔ آخر جب کنڈکٹر نے نوٹ لینے سے قطعی انکار کر دیا تو بارئیش میواتی نے اپنے جیب میں دوبارہ ہاتھ ڈالا ۔ جب اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader