Urdu book · میوات کا سفر

تیرھواں سفر

Urdu book, p. 171

By Maulana Wahiduddin Khan

کے کنارے واقع ہو۔ وہ ٹریکٹر رکھ کر اور ٹیوب ویل لگا کر اپنی زمینوں سے چوگنا زیادہ غلہ اگا سکتے ہیں اور اپنے اور اپنے دین کے لئے زیادہ نفع بخش ثابت ہو سکتے ہیں مگر ان کے ذہنی سانچہ میں کسی طرح یہ بات اتاری نہیں جاسکتی۔ وہ دین کے اس تصور سے نا آشنا ہیں کہ جدید اقتصادی امکانات سے اپنا حصہ وصول کر کے موجودہ زمانہ میں دین کی جڑیں مضبوط کریں۔ ان کے یہاں دین محض شخصی تسکین کا ذریعہ ہے۔ وہ زمانہ پر غلبہ حاصل کرنا انہیں نہیں سکھاتا۔ اس علاقہ کا یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے، جہالت عام ہے۔ تجارتیں انھوں نے دوسروں کے لئے چھوڑ رکھی ہیں، صرف کھیتی پر انحصار ہے اور اس میں بھی جدید طریقے استعمال کرنا ان کے ذوق کے خلاف ہے۔ مویشیوں کی طرح محنت کر کے زمین سے غلہ اگاتے ہیں اور پھر ضروریات زندگی کی خریداری میں اسے بنے کے یہاں دے آتے ہیں۔ ”آپ کیا پڑھتے ہیں“ میں نے ایک نوجوان سے پوچھا۔ ”ہندی“ یہ جواب اولاً میری سمجھ میں نہ آیا۔ پھر جب کئی طالب علموں نے یہی جواب دیا تو میری سمجھ میں آیا کہ اس سے مراد وہی تعلیم ہے جس کے لئے آزادی سے پہلے کا طالب علم ”انگریزی“ کا لفظ بولتا تھا۔ اب اس کا مطلب ہندی ہے۔ یوں بھی راجستھان میں ہندی کا چلن دیسی ریاستوں سے غالباً کچھ زیادہ ہے الور کے مہاراجہ جے سنگھ (۱۹۳۷-۱۸۸۲) نے ریاست الور میں ۱۹۰۳ء میں ہندی کو سرکاری زبان بنا دیا تھا۔ یہ علاقہ جس میں میرا سفر ہوا، یہ مشہور علاقہ میوات کا ایک جز رہے۔ اب اس کا بڑا حصہ ہریانہ اور راجستھان میں واقع ہے۔ ان کی پوری تعداد تقریباً ۱۱ لاکھ ہے جن کی بیشتر تعداد کسانوں پر مشتمل ہے۔ الور میں دو لاکھ اور بھر ت پور میں ڈیڑھ لاکھ کی تعداد ہے۔ میو قوم محمود غزنوی اور شہاب الدین غوری کے زمانہ میں مسلمان ہوئی۔ مگر ان کا قبول اسلام چونکہ شعوری تبدیلی کے تحت نہیں ہوا تھا ان میں قدیم زمانہ کی بہت سی رسمیں باقی رہیں۔ اگر چہ اس علاقہ میں بے شمار درگاہوں کے نشانات ہیں۔ اور اب بھی اصلاح کا کام بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے مگر جہالت کی وجہ سے ابھی تک ان کے اندر کوئی گہری اصلاح نہ ہو سکی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page