تیرھواں سفر
Urdu book, p. 172
By Maulana Wahiduddin Khan
پھر یہ وہ علاقہ ہے جو تقسیم کے ہنگامہ (۱۹۴۷ء) کا بری طرح شکار ہوا۔ الور، جہاں کاراجہ اگر چہ ہندو تھا، مگر عملاً تجارت کے سوا سارے سرکاری اور غیر سرکاری شعبہ پر سلمان چھائے ہوئے تھے، ۱۹۴۷ء میں مسلمانوں سے بالکل خالی ہو گیا۔ ۵۲ مسجدیں مسمار کر دی گئیں۔ معاشیات بالکل تباہ ہو گئیں۔ تاہم خوشی کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ اس علاقہ میں دین کو زندہ کر رہا ہے۔ بعض علاقوں کی حالت کسی قدر بہتر ہے۔ مگر بعض علاقے ابھی تک بالکل غفلت کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ تحصیل راج گڑھ (ضلع الور) میں ایسے گاؤں ہیں جن کا اندازہ اس واقعہ سے ہوگا۔ ایک حاجی صاحب اس علاقہ کے ایک گاؤں میں گئے۔ نماز کا وقت ہوا تو انہوں نے نماز ادا کی، ان کو قبلہ رخ سجدہ کرتے دیکھ کر ایک مسلمان لڑکی نے کہا: کاٹیں بھایا اپنے رام جی کو ڈھوک انکو ہی دیویں۔ (کیوں بھئی اپنے خدا کو سجدہ اس طرف کو کرتے ہیں) اس نے ہندوؤں کو ڈنڈوت کرتے دیکھا تھا۔ مگر مسلمان کو خدا کے آگے جھکتے نہیں دیکھا۔ اسے معلوم نہ تھا کہ مسلمان لوگ کس سمت میں جھک کر عبادت کرتے ہیں۔ ضیاء الدین برنی نے تاریخ فیروز شاہی میں خواجہ معین الدین اجمیری کے زمانہ کے حالات میں لکھا ہے: نہ کس داند بجا قبلہ نہ کس شنیدہ اللہ اکبر کیسی عجیب بات ہے کہ ۸۰۰ سال بعد بھی یہ صورت حال ابھی تک موجود ہے۔ اس کے باوجود اسلام سے عقیدت اتنی زیادہ ہے کہ آپ وہاں جائیں اور کسی میتو سے کہیں کہ وضو کے لئے پانی چاہئے تو وہ اپنی لڑکی کو آواز دے کر کہے گا۔ " او چھوری ! اہی نماز پھڑے گو، یہ کو پانی مانچ کے لاجیو " (یہ نماز پڑھیں گے ۔ ان کے لئے برتن مانجھ کر اس میں پانی لاؤ)، اور جب آپ نماز کے لئے کھڑے ہوں گے تو وہ دور نہایت ادب سے زمین پر خاموش بیٹھ جائیں گے۔ الور کے پس منظر میں اونچے اونچے پہاڑوں پر ایک وسیع قلعہ ہے جو سات میل کے رقبہ میں پہاڑ کے اوپر پھیلا ہوا ہے۔ یہ بند ر رہتا ہے۔ البتہ وہاں ایک مختصر سا عملہ ہے جس سے رابطہ کا ذریعہ صرف وائرلیس ہے۔ ۱۹ اگست کو ایس پی کی اجازت سے ہم کو د ہاں جانے کا موقع ملا۔ وائرلیس کی ہدایت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader