تیرھواں سفر
Urdu book, p. 173
By Maulana Wahiduddin Khan
پر ۳ بجے اس کا بھاری گیٹ کھلا اور ہم اندر داخل ہوئے ۔ الور شہر سے اوپر قلعہ تک ایک گھومتی ہوئی سڑک ہے جس پر صرف جیپ کے ذریعہ جایا جا سکتا ہے ۔ چھ میل کا فاصلہ طے کر کے ہم در محل میں پہنچے ، جہاں کئی منظر عام زمین ہیں پرانے زمانے کی توپیں رکھی ہوتی ہیں ۔ توپوں کے اوپر ان کی تفصیل کھدی ہوئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب راج گڑھ کے کاریگر سیوا رام کی بنائی ہوئی ہیں جو مہاراجہ بنتا در سنگھ اور مہاراجہ د نے سنگھ کے لئے بنائی گئی ہیں ۔ ان پر سنہ ۱۸۶۳ ، ۱۸۶۶ ، ۱۸۷۲ اسمبت ہندی میں لکھا ہوا ہے ۔ بعض توپوں پر ان کا نام ” ارجن بان “ لکھا ہوا ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستانی جو بابر کے داخلہ ہندوستان (۱۵۲۶ء) کے وقت توپوں سے بالکل ناواقف تھے ۱۹ ویں صدی کے وسط تک اس فن کو سیکھ کر اس کے ماہر بن چکے تھے ۔ ایک جگہ سڑک ایک عمارت کو چھوڑتی ہوئی گزرتی ہے ۔ یہ ایک مسجد ہے جو اپنے طرز تعمیر کے اعتبار سے مغلوں سے پہلے کی معلوم ہوتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ اس کو سلیم شاہ سوری نے بنوایا تھا ۔ اس کے ساتھ ” سلیم ساگر “ بھی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ اکبر سلیم سے ناراض ہواتو اس کو یہاں قید کر دیا تھا ۔ مسجد خستہ حالت میں ہے ۔ وہاں میں نے اور میرے ساتھیوں نے عصر کی نماز پڑھی ۔ غالباً سیکڑوں برس بعد یہاں نماز پڑھی گئی ہوگی ۔ مسجد کے اندر محراب کے اوپر لا الہ الا اللہ پتھر پر لکھا ہوا ہے۔ باہر کی طرف تین دروازوں پر ” یا اللہ “ لکھا ہوا ہے ۔ ار اولی پہاڑوں کے دامن میں بسا ہوا الور شہر کس نے بنایا تھا ۔ ایک شہرت یہ ہے کہ راجہ پرتاپ سنگھ نے اس کو بسا یا تھا۔ میر حسن نے تاریخ فرشتہ میں لکھا ہے کہ خان زادہ ہلاول خاں (۱۵۲۵) اس کے بانی ہیں ۔ اور الور کا لفظ ” علاول “ کی بدلی ہوئی شکل ہے جو خود علاؤالدین کی بگڑی ہوئی صورت ہے ۔ الور سے ۹ کلومیٹر کے فاصلہ پر جے سمندر بند ہے اور ۲۲ کلومیٹر کے فاصلہ پر سیلی سیڑھ یہ دونوں مقامات یہاں کے دوسرے مقامات کی طرح سیاحی کے مراکز ہیں جو قدرت کی حسین گود میں واقع ہیں ۔ پورا راستہ سبز پوشش پہاڑوں اور ہرے بھرے درختوں کے درمیان طے ہوتا ہے ۔ اس آفاقی حسن کے درمیان سفر کرتے ہوئے ہم وہاں پہنچے ۔ جے سمند بند راجہ جے سنگھ (۱۹۳۷-۱۸۸۲) نے بنوایا تھا ۔ یہ اس علاقہ میں آبپاشی کا ایک بڑا ذریعہ ہے ۔ ریاستی حکومت نے یہاں ایک ریسٹ ہاؤس بنوایا ہے جس نے اس کے حسن میں کافی اضافہ کر دیا ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader