Urdu book · میوات کا سفر

تیرھواں سفر

Urdu book, p. 174

By Maulana Wahiduddin Khan

سلی سیندھر راجہ ون سنگھ (۱۸۸۶ء-۱۸۱۵ء) نے اپنی رانی کے لئے ۱۸۲۵ء میں بنوایا تھا۔ آب اس کا بند آبپاشی کا ذریعہ ہے اور اس کی عمارت مزید اضافہ کے ساتھ سیاحوں کے قیام گاہ مرکز ہے۔ اس میں ایک آرٹ گیلری ہے۔ اس میں مغل بادشاہوں کی تصویریں ہیں اور اس زمانہ کے آرٹ کے نمونے ہیں جن میں کئی ایسے ہیں جن کا کیپشن فارسی زبان میں لکھا ہوا ہے۔ ایک تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ شہنشاہ اکبر کا لڑکا سلیم ۳۱ اگست ۱۵۶۹ء کو پیدا ہوا ہے اور محل میں اس کی خوشی منائی جا رہی ہے۔ ایک تصویر میں بہادر شاہ ظفر کا عید کا جلوس بہت بڑی تصویر میں دکھایا گیا ہے۔ یہ عمارت ۷ منزلہ ہے۔ ونے سنگھ فارسی اور عربی کا قدردان تھا۔ اس نے چالیس ہزار روپے کے خرچ سے قرآن کا ایک طلا نسخہ تیار کرایا۔ اسی طرح گلستاں بوستاں کا نسخہ ایک لاکھ روپے خرچ کرکے بہت اعلیٰ شکل میں لکھایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے خود اپنے ہاتھ سے بھی قرآن لکھا تھا۔ آج سے پہلے اسلام کا پیغام پھیلانے کے کتنے مواقع تھے۔ ہمارے لیڈروں نے ان مواقع کو صرف برباد کیا اور نئے مواقع پیدا نہ کر سکے ۔ الور کی موجودہ آبادی تقریباً سوا لاکھ ہے۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے تقریباً ۲۵ ہزار تھی ۔ تقسیم سے پہلے یہاں ۵۲ مسجدیں تھیں اور آبادی میں دو تہائی مسلمان تھے ۔ یہاں کا پہلا ہندو راجہ پرتاپ سنگھ (۱۷۷۵ء) تھا۔ ڈاکٹر جے سنگھ نیرج (استاد راج رسمی کالج الور) نے کالج میگزین (۱۹۶۹ء) میں اپنے ہندی مقالہ میں لکھا ہے کہ ابر اہیم لودی جب ۱۵۲۶ء میں دلی کے تخت پر بیٹھا تو اس نے اپنے خالہ زاد بھائی حسن خاں میواتی کو الور اور میوات کا علاقہ دے دیا۔ یہ ایک لائق راجہ تھا۔ اس سے پہلے یہ علاقہ کسی منظم ریاست کی شکل میں نہ تھا۔ یہ اس علاقہ کی پہلی منظم ریاست تھی ۔ الور کا قلعہ جو پہاڑوں کے اوپر سات میل کے علاقہ میں پھیلا ہوا ہے اس کو ابتدا ئر چھوٹی سی شکل میں بڑگو جبروں نے مٹی اور پتھر سے بنوایا تھا ۔ اس کی بنیاد پر راجہ حسن خاں میواتی نے چونے اور پتھر کی کنگورہ دار دیواریں اور برجیاں بنوائیں جو اب بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ سڑکیں، باغ، سرائیں وغیرہ بنوائیں جن کے آثار پٹوکرا، تاوڑو، فیروزپور، بھو نڈسی، نخباره، الورا اور ڈھوڈیکیر وغیرہ میں اب بھی ملتے ہیں۔ وہ علم پسند تھا اور اہل علم کی بہت قدر دانی کرتا تھا۔" ان سب کی اترکنت سودیش پریپ اس میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ اسلام دھرادلمہی ہوتے ہوئے بھی پرن وہ پر تشٹھا کے لئے سودھرمی کے ساتھ یدھ کرنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page