Urdu book · میوات کا سفر

تیرھواں سفر

Urdu book, p. 175

By Maulana Wahiduddin Khan

میں کبھی نہیں چوکتا تھا۔“ اس کے بعد ڈاکٹر جے سنگھ نے اس تاریخی واقعہ کو لکھا ہے کہ بابر کے مقابلہ میں میواڑ کے رانا سانگانے بیانہ کے میدان میں جو لڑائی لڑی تھی، اس میں راجہ حسن خاں میواتی بھی اپنی ۱۲ ہزار فوجوں کے ساتھ شریک تھا۔ دونوں راجہ اس جنگ میں مارے گئے۔ چنانچہ اس علاقہ کا ایک لوک گیت ہے : یہ میواتی وہ میواڑی مل گئے دونوں سینانی ہندو مسلم بھائی چھوڑ مل بیٹھے دو ہندستانی الور شہر میں راجہ کا بہت بڑا محل ہے۔ اس کے ایک حصہ میں میوزیم بنا دیا گیا ہے۔ اس کے اندر بہت سی عبرت انگیز چیزیں ہیں۔ ایک بہت بڑا او کٹوریہ کر اس ہے جو جنوری ۱۸۷۷ء میں ملکہ وکٹوریہ کی طرف سے راجہ منگل سنگھ کو دیا گیا تھا۔ اس پر اردو زبان میں یہ الفاظ کڑھے ہوئے ہیں : ڈاکٹر یہ قیصر ہند کے حضور سے یہ سورپرس پہلے اردو زبان کی اہمیت کو بہت نا ہے۔ فارسی زبان کے کتبات اور پتھر کی تختیاں کثرت سے ہیں۔ تصویروں پر فارسی کے کیپشن ہیں۔ فارسی کی قلمی کتا میں کثرت سے ہیں مثلاً انوار سہيلي ، تاریخ فرشتہ ، تحفة العراقین ، شاہ نامہ ، عجائب المخلوقات وغیرہ۔ مغل آرٹ پندرھویں صدی عیسوی میں سمرقند اور ہرات میں عروج پر نہا۔ سولھویں صدی میں مغل آرٹ یا فارسی آرٹ بابر کے ساتھ ہندوستان آیا۔ اس کے نمونے کثرت سے موجود ہیں۔ قرآن کا نسخہ فارسی ترجمہ کے ساتھ نہایت عمدہ لکھا ہوا سونے کے کام کے ساتھ ہے۔ اس سے نہ صرف فارسی کی عمومی اہمیت ظاہر ہوتی ہے بلکہ اس زمانے میں اسلامی کتب کے ساتھ اعتنا کا ثبوت ملتا ہے اگرچہ اس اعتنا کو ہم نے بالکل استعمال نہیں کیا۔ ہمارا راجہ جے سنگھ (۱۹۳۔ ۱۸۸۲ء) کی تصویر خصوصی اہتمام کے ساتھ ہے جو ۱۸۸۲ میں گدی پر بیٹھا تھا۔ یہ ایک آزادی پسند راجہ تھا اس کا انتقال پیرس میں ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طبعی موت نہ تھی بلکہ اس کے پیچھے انگریزوں کا ہاتھ تھا۔ میوزیم میں الور کے تمام راجاؤں کی تلواریں ہیں۔ اکثر تلواروں پر فارسی میں لکھا ہوا ہے۔ مثلاً مہاراجہ ونئے سنگھ کی تلوار پر " عمل حاجی نور محمد کابلی " ۱۹۰۴ء ، راجہ شیودان سنگھ کی تلوار پر عمل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page