تیرھواں سفر
Urdu book, p. 176
By Maulana Wahiduddin Khan
محمد ابراہیم “۱۹۲۶ء درج ہے۔ اسی طرح ہر قسم کی تلواروں پر مسلم صنعت کاروں کے نام ہیں، فولاد کے نام المانی فولاد، خراسانی فولاد لکھے ہوئے ہیں۔ ایک تلوار ۱۸۳۰ء کی بنی ہوئی ہے اور اس پر عمل محمد صادق کابل درج ہے۔ مغل بادشاہوں کی تلواریں بھی ہیں۔ اکبر کی تلوار پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ علی ولی اللہ لکھا ہے۔ مزید یہ شعر درج ہے: ہرچہ کہ شمشیر من کار کرد یکی را دو کرد دو دو را چاک کرد اسی طرح فوجی چھڑیاں ہیں۔ کسی پر وما النصر الا من عند اللہ کسی پر وما توفیقی الا باللہ لکھا ہوا ہے ۔ ایک ریولور اور ایک بندوق پرنس آف ویلز کی طرف سے ۱۸۷۷ء میں راجہ منگل سنگھ کو دیا گیا تھا۔ تلواروں سے گزر کر جب بندوقوں اور طپنچوں (ریوالوروں) کی الماریاں آتی ہیں تو وہاں نقشہ بدل جاتا ہے۔ اب بنانے والوں کے نام انگریزی زبان میں درج ہیں مثلاً کنگ، اسمتھ، ویس وغیرہ۔ یہ لندن، یا کسی اور مغربی شہر کے کارخانے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک فوجی صنعت دستی ہتھیاروں (تلواروں) تک محدود تھی اس کے صانعین مسلمان تھے۔ مگر جب میکانیکل طاقت کا زمانہ آیا اور دور مار ہتھیار بننے لگے تو فوجی صنعت یورپ کے ہاتھ جا چکی تھی۔ الورس میرابھی بار آ نا مولا نا محمد ابراہیم صاحب مرحوم (۱۹۱۳-۱۹۷۰ء) کے آخری زمانہ میں ہوا تھا۔ مولا نا ابراہیم صاحب جو کبھی اس علاقہ کے مسلم لیڈر تھے۔ ان دنوں ایک ٹوٹی ہوئی کرسی پر داؤد پور کی شکستہ مسجد کے پاس درخت کے نیچے بیٹھے رہتے تھے۔ ان کو جب پہلی بار میں نے دیکھا تو ایسا معلوم ہوا جیسے وہ ماضی کے کھنڈر کی چوکیداری کر رہے ہوں۔ یہ وہ علاقہ ہے جو ۱۹۷۴ء کی سیاسی قیامت میں سب سے زیادہ تباہ ہوا تھا ۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسلام اور مسلمانوں کا خیمہ یہاں سے اکھڑ چکا ہے۔ مگر موجودہ سفر میں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ قدیم کھنڈر کے اوپر دوبارہ نئی عمارت کھڑی ہوئی ہے۔ مسلمان دوبارہ آکر شہر میں بس رہے ہیں۔ الور اسٹیشن کے پاس کی مسجد از سر نو تعمیر کی گئی ہے ۔ اور اسی کے ساتھ ایک مدرسہ کی بنیاد بھی رکھ دی گئی ہے۔ اگر چہ ابھی مسجد اور مدرسہ دونوں کی عمارت بڑی حد تک نامکمل ہے۔ الور سے ایک ہندی پندرہ روزہ بھی "میوات سماچار" کے نام سے ۱۵ اگست ۱۹۷۶ء سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader