Urdu book · میوات کا سفر

تیرھواں سفر

Urdu book, p. 177

By Maulana Wahiduddin Khan

جاری ہوا ہے جس کے ایڈیٹر منشی خاں میواتی ہیں۔ منٹا میں میری ملاقات ایک ۸۰ سالہ خاتون سے ہوئی جن کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوا کہ وہ عجائب مدینہ کیسی ہوں گی جن کے دین پر مرنا دورِ عباسی کے متکلمین نے پسند کیا تھا۔ اس خاتون کو یہ معلوم ہوا کہ اور کی واحد زیر تعمیر مسجد کی چھت کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے۔ اس نے اپنے تین لڑکوں کو جمع کیا اور پوچھا "کیا تمہاری جائیداد میں میرا کچھ حق ہے؟" سب نے کہا ہاں " میرے مرنے کے بعد تم میرے لئے کچھ کرو گے" سب نے جواب دیا ضرور کریں گے۔ خاتون بولیں" جو کچھ تم میرے اوپر خرچ کرنا چاہتے ہو، وہ سب مسجد کے لیے دے دو، اور جب میں مروں تو تم صرف یہ کرنا کہ ایک گڑھا کھودنا اور میں جس کپڑے میں ہوں اسی کپڑے کے ساتھ مجھ کو گڑھے میں دھکیل کر مٹی بھر دینا۔" اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے لڑکوں نے پورے شوق کے ساتھ مسجد کی تعمیر میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ اس کے بعد یہ خاتون نفلی حج کے لئے جارہی تھیں۔ مولانا مفتی جمال الدین صاحب نے ان سے کہا کہ اس علاقہ میں مسلمان بچوں کی دینی تعلیم کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ آپ کے لئے نفلی حج سے زیادہ ثواب یہ ہے کہ آپ حج کا روپیہ مدرسہ کی تعمیر کے لئے دے دیں" انھوں نے فوراً سارا روپیہ مدرسہ کے لئے دے دیا۔ اور اپنے لڑکے سے کہا: " بیٹے کم کھاؤ اور کم پہنو مگر مدرسہ ضرور بنا دو۔" اسی طرح متعدد لوگ ہیں جو مسجد اور مدرسہ کی شکل میں اس دینی مرکز کی تعمیر کے لئے لگ گئے ہیں۔ مثلاً حاجی مل خاں ،شنتاب خاں صاحب وکیل، چودھری باگ سنگھ ، مولا نا عبد الرحمن صاحب وغیرہ۔ مگر ایک مؤثر دینی ادارہ کی تعمیر کے لئے جو وسائل درکار ہیں وہ ابھی بہت زیادہ تعاون کا تقاضا کر رہے ہیں۔ مدرسہ اشرف العلوم اگر چہ آباد ہو گیا ہے۔ مگر ابھی بہت کام باقی ہے۔ مسجد میں برآمدہ نہیں ہے پوری مسجد کا پلاسٹرباقی ہے۔ پنکھے وغیرہ بھی نہیں ہیں۔ مدرسہ کی تین کمروں پر مشتمل عمارت ایک شخص (حاجی مل خاں) کی ہیت سے بن گئی ہے۔ مگر اس کے آگے ابھی برآمدہ نہیں ۔ اساتذہ کے رہنے کی کوئی جگہ نہیں۔ عشر کا جو غلہ آتا ہے اس کے لئے گدام کی ضرورت ہے۔ مدرسہ کی توسیع کے لئے قریب کی ایک بیگھ زمین مل سکتی ہے۔ مگر اس کے لئے بھی تقریباً ۲۰ ہزار روپے کی ضرورت ہے۔ یہ زمین مل جائے تو کل رقبہ ۳/۱ بیگھ ہو جائے گا اور پھر باؤنڈری بنا کر ایک باقاعدہ ادارہ کی شکل بن سکتی ہے۔ ہماری سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ بڑے بڑے کام تو ہم کو کام نظر آتے ہیں ، مگر "چھوٹے کام"

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page