تیرھواں سفر
Urdu book, p. 178
By Maulana Wahiduddin Khan
کا کام ہونا ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ حالانکہ زندگی کی تعمیر حقیقت چھوٹے کاموں سے ہوتی ہے نہ کہ بڑے بڑے ہنگاموں سے۔ اس علاقہ میں اسلام اور مسلمانوں کی جو بے پناہ بربادی ہوئی ہے، اس کو دوبارہ تعمیر کی شکل دینے کے لئے کسی عظیم الشان اجلاس“ یا ”تاریخ ساز ریزولیوشن“ کی ضرورت نہیں۔ صرف اس کی ضرورت ہے کہ اس کھنڈر کی جو اینٹیں باقی رہ گئی ہیں ان پر کچھ لوگ بیٹھ جائیں۔ اور خاموش عمل کے ذریعہ نئے مستقبل کی تعمیر شروع کر دیں۔ مولانا مفتی جمال الدین صاحب ، مدرسہ اشرف العلوم (الور) اس کی واحد مسجد میں بیٹھ کر یہی کام کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہمت دے اور لوگوں کو ان کے تعاون کی طرف متوجہ کر دے۔ کیوں کہ آج اس قسم کے لوگوں کے ساتھ تعاون سے بڑا ثواب کا کام کوئی نہیں۔ الور میں ”میو بُورڈنگ“ کے نام سے ایک عمارت ہے جس کا کل رقبہ چار بیگھہ سے زیادہ ہے۔ یہ ایک شاہراہ پر واقع ہے۔ اس کے اندر ایک مسجد تھی جو ۱۹۴۷ء میں مکمل طور پر مسمار کر دی گئی تھی۔ الور کے کلکٹر جناب پر کاش چند صاحب نے اپنی خصوصی عنایت سے اس کی دوبارہ تعمیر کی اجازت دے دی۔ ۲۸ اگست کو ساڑھے بارہ بجے جب میں نے بنیاد کھودنے کے لیے پہلا پھاؤڑا مارا، تو علاقہ کے کافی مسلمان جمع تھے۔ لوگوں میں اس قدر جوش وخروش تھا کہ ہر ایک یہ چاہتا تھا کہ وہ بھی کچھ پھیاوڑے مار کر اس سعادت میں شریک ہو جائے۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے امت محمدی اپنی تعمیر کے لئے بے تاب ہو اٹھی ہو۔ اور اس کا ہر فرد یہ چاہتا ہو کہ اس کام میں اپنا حصہ ادا کر کے اس کو پایہ تکمیل تک پہنچا دے۔ الور سے چار میل کے فاصلہ پر ایک گاؤں ” دھولی دوب “ ہے۔ یہ ایک تاریخی گاؤں ہے شہنشاہ اکبر (۱۶۰۵-۱۵۵۶ء) کے زمانے میں ایک بزرگ لال داس تھے جنہوں نے یہاں ایک درگاہ قائم کی تھی۔ سرکاری کاغذات میں اس کا نام ”درگاہ شگری لال داس“ لکھا ہوا ہے۔ یہ ہندو مسلمان دونوں میں مقبول تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا اصل نام لال خاں تھا۔ مضبوط دیواروں کے اندر آٹھ بیگھہ زمین اور درگاہ کی مستحکم عمارتیں ہیں۔ آج کل یہ ہندو صاحبان کے قبضہ میں ہے۔ انھوں نے اس کے اندر لیموں کے درخت لگا دئے ہیں۔ اور ٹیوب ویل لگا کر کھیتی کرتے ہیں۔ ایک سال میں صرف پپیہ کی پیداوار چودہ ہزار میں فروخت ہوئی۔ ٹیوب ویل سے سینچائی کرنا خود بھی ایک مستقل آمدنی کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader