تیرھواں سفر
Urdu book, p. 179
By Maulana Wahiduddin Khan
ذریعہ ہے۔ اس قسم کی اور بھی متعدد درگاہیں اس علاقہ میں ہیں مگر وہ کسی آباد کرنے والے کے انتظار میں ویران پڑی ہوئی ہیں۔ پہاڑ کی بلندی پر انہوں نے ایک مسجد بنائی تھی۔ ہم لوگ چڑھ کر اوپر گئے۔ ہندو صاحبان نے اس کو بھی مرمت کر کے اچھی حالت میں بنا دیا ہے۔ اس طرح کی مسجدیں پہاڑوں پر بہت نظر آتی ہیں۔ اس کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ قرآن نے جس ’’نبتل‘‘ کا حکم دیا تھا، وہ حقیقتاً نفسیاتی تبتل تھا۔ مگر دوسرے مذاہب کے اثر سے لوگوں نے اس کو جغرافی تبتل کے معنی میں لے لیا۔ وہ دین جس میں عبادت و ریاضت قوت حاصل کرنے کے لئے تھی وہ گوشہ گیر ہونے کے ہم معنی بن گئی۔ لال داس یا لال خاں کے متعلق مسلمانوں میں بہت سی کرامتیں مشہور ہیں۔ مثلاً یہ کہ وہ جنگل سے لکڑی کاٹ کر اور شہر میں لے جاکر فروخت کرتے تھے اس کو ایک بنیا صرف دو ٹکے میں خرید لیتا تھا، وہ اس سے مالامال ہوگیا۔ کیونکہ یہ جنگلی لکڑی بنیا کے پاس صندل کی ہوجاتی تھی۔ ایک بار جب لال خاں لکڑی کا گٹھا سر پر لئے ہوئے تھے، ان کی طرف ہاتھی چھوڑ دیا گیا مگر اس نے ان کے پاس آکر سر جھکا دیا۔ اس طرح کے بے شمار قصے اس علاقے میں سننے میں آتے ہیں۔ ایک مقام پر مجھے بتایا گیا کہ ایک بزرگ تھے۔ ان سے ایک مذہب والے نے مقابلہ کیا اس نے کہا کہ تمہارے مذہب میں چاند ۲۹ ۳۰ کو نکلتا ہے۔ میں اس کو ۲۸ تاریخ کو نکال سکتا ہوں۔ اور اس نے جادو کے زور سے آسمان پر چاند بھیج دیا۔ بزرگ نے اپنا جوتا اوپر پھینکا اور وہ اس کے چاند کو زمین پر اتار لایا۔ جس مسلمان سے ملئے اس کے پاس اس قسم کی کراماتی داستانوں کی الف لیلہ موجود ہوگی۔ مگر کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ایسی کرامتوں کے بزرگ ملت اسلامیہ کی قسمت کو کیوں نہیں بدل سکے۔ ہماری لکڑی صندل نہ بن سکی۔ نہ ہمارے حریفوں کا چاند زمین پر گرایا جاسکا۔ اور نہ ہم کو کچلنے والے ہاتھی نے ہمارے آگے سر جھکایا۔ حقیقت یہ ہے کہ ملت اسلامیہ کے احیاء ثانی میں کوئی بھی چیز اتنی بڑی رکاوٹ نہیں ہے جتنی بڑی رکاوٹ یہ فرضی اور قطعی گھڑی ہوئی داستانیں ہیں۔ یہ داستانیں قوم کے مزاج میں اس طرح رچ بس گئی ہیں کہ اب اس کے لئے ممکن نہیں رہا ہے کہ اس کی طلسماتی فضا سے باہر آکر سوچ سکے۔ کبھی کبھی مجھے خیال آتا ہے کہ اب شاید اس قوم کا احیائے ثانی ممکن ہی نہیں۔ طلسماتی افکار کے جس تاریخی بوجھ کو یہ قوم اٹھائے ہوئے ہے اس کو اتار پھینکنا اس کے بس میں نہیں ہے۔ اور جب تک یہ نہ ہو، قوم کا دوبارہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader