پہلا سفر
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
نے جیب سے ہاتھ نکالا تو اس کے ہاتھ میں ایک تسبیح اور کچھ پیسے تھے اس پورے عمل کے دوران میں غور سے اسے دیکھتا رہا ۔ اس کے چہرے پر مطلق شرمندگی کے آثار نہیں تھے ۔ اس نے نہایت اطمینان سے تسبیح اٹھاکر دوبارہ جیب میں ڈالی اور پیسے کنڈکٹر کے حوالے کر دیے ۔ نوح سے فیروز پور جھرکہ ہم بس سے آئے ۔ اور یہاں سے قصبہ نگر (ضلع بھرت پور، راجستھان) کے لیے سائیکل سے روانہ ہوئے ۔ یہ سڑک پہاڑوں کو کاٹ کر ابھی نئی بنی ہے ۔ اور شروع سے آخر تک نہایت عمدہ ہے ۔ راستہ میں بعض مسلمانوں سے ملاقات ہوئی جو اپنی روایتی بیل گاڑی کے ساتھ گویا زندگی کی شاہراہ پر گھسٹ رہے تھے ۔ ان کا پورا حلیہ بتا رہا تھا کہ وہ زمانہ سے کس قدر پچھڑ گئے ہیں ۔ ہماری سائیکل چکنی تارکول سڑک پر تیزی سے پھسل رہی تھی اور دوسری طرف سڑک پر میواتی مسلمان کا چکڑا ابھی کہیں کہیں گھستا ہوا دکھائی دیتا تھا ۔ میں نے سوچا ۔ " زمانہ نے تیز رفتار ترقی کے بے پناہ مواقع آج کے انسان کے لیے کھول دیے ہیں ۔ مگر سڑک خواہ کتنی ہی صمدہ ہو، تیز رفتار سفر تیز رفتار سواری کے بغیر ممکن نہیں " ہماری آخری منزل الور رکھتی ۔ یہاں مجھے خصوصیت سے مولانا محمد ابراہیم صاحب سے ملنا تھا۔ جو کسی وقت اس علاقہ کے سب سے سرگرم سلمان لیڈر تھے مگر اب دو سال سے مفلوج ہو کر پڑے ہوئے ہیں۔ مولانا میوات کے علاقہ میں بے حد مقبول ہیں ۔ وہ مارچ ۱۹۱۲ء میں پیدا ہوئے تعلیم سے فراغت کے بعد سیاسی زندگی کا آغاز کیا ۔ ۱۹۳۱ء میں کانگریس میں شامل ہوئے ۔ مگر آزادی کے بعد کانگریس حکومت کے تخت جو حالات پیدا ہوئے اس سے متاثر ہو کر اب کانگریس سے مستعفی ہو چکے ہیں ۔ تین بار انگریزی جیل گئے ۔ ایک بار ریاست الور کی فوج کی گولی سے زخمی ہوئے ۔ جب کہ انہوں نے ریاست کو مال گزاری نہ دینے کی تحریک چلا رکھی تھی ۔ ۱۹۷۰ء میں مولانا محمد ابراہیم صاحب کا انتقال ہو گیا ۔ مولانا ابراہیم صاحب کے معتقدوں میں غیر مسلموں کی بڑی تعداد ہے کیونکہ وہ ہمت و مسلم کو ایک نظر سے دیکھتے تھے اور سب کی خدمت کرتے تھے ۔ اور میں ماسٹر امر سنگھ بی ۔ اے (جاولی بھون) سے میری ملاقات ہوئی۔ " میں مولوی ابراہیم کو بچپن سے جانتا ہوں" انہوں نے کہا " کانگریس نے جب شور مچایا کہ دیش کو آزاد ہونا چاہیے تو مولوی صاحب پہلے آدمی تھے جنہوں نے کانگریس کا ساتھ دیا ان کا کچھ نہیں بگڑا ۔ مولوی صاحب کی ٹانگ ٹوٹ گئی ۔ خود چٹنی روٹی کھائی ، چپڑ میں زندگی گزارمی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader